شراب نوشی اور اسکے نقصانات

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّمَاالْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُوَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌمِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَO اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطٰنُ اَنْ یُّوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ ج فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنتَہُوْنَO

(المائدہ۹۱)
ترجمہ۔ اے ایمان والو ! یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت اورپانسے سب گندے کام ہیں شیطان کے سو ان سے بچتے رہو تا کہ تم نجات پاؤ ۔شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ ڈالے تم میں دشمنی اور بیربذریعہ شراب اور جوئے کے اور روکے تم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے سو اب بھی تم باز آؤ گے۔
خلاصہ تفسیر:۔ اے ایمان والو! یہی بات ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ او رقرعہ کے تیر(جوئے کی لاٹری جیسی) یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں سو ان سے بالکل الگ رہو تا کہ تم ان کے نقصانات سے بچنے کی وجہ سے فلاح پاؤ۔اور وہ نقصانات دنیاوی بھی ہیں اور دینی بھی ، جن کا بیان یہ ہے کہ شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے آپس کے برتاؤ میں عداوت اور دلوں میں بغض واقع کر دے ۔چنانچہ ظاہر ہے کہ شراب اور جوئے میں تو عقل نہیں رہتی گالی گلوچ دنگا فساد ہو جاتا ہے جس سے بعد میں بھی دشمنی باقی رہتی ہے اور جو شخص جوا ہار جاتا ہے اس کو جیتنے والے پر سخت غصہ آتا ہے اور جب اس کو رنج ہو گا تو دوسرے پر بھی اس کا اثر پہنچے گا۔یہ تو دنیاوی نقصانات ہیں اور شیطان یوں چاہتا ہے کہ اسی شراب اور جوئے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے جو کہ اللہ کی یاد کا سب سے افضل طریقہ ہے تم کو غافل کر دے۔چنانچہ یہ بھی ظاہر ہے کیونکہ شراب میں تو اس کے ہوش ہی قائم نہیں رہتے اور جوئے میں جیتنے والے کو خوشی او رمزہ اس درجہ کا ہوتا ہے کہ اس میں غرق ہوتا اور ہارنے والے کو ہارنے کا رنج اور پھر جیتنے کی کوشش اس درجہ ہوتی ہے۔کہ اسمیں فارغ نہیں ہوتا۔یہ دینی نقصان ہوا جب یہ ایسی بری اور گندی چیزیں ہیں تو بتلاؤ اب بھی باز نہیں آؤ گے۔اللہ تعالیٰ نے شر اب ،جوئے،بت اور پانسے (لاٹری) کو رجس فرمایا ہے ۔رجس عربی زبان میں ایسی گندی چیز کو کہا جاتا ہے جس سے انسان کی طبیعت کو گھن اور نفرت پید اہو جیسا کہ پیشاب اور پاخانہ وغیرہ۔یہ چاروں چیزیں ایسی ہیں کہ اگر انسان ذرا بھی عقل سلیم اور پاکیزہ طبیعت رکھتا ہو تو خود بخود ہی ان چیزوں سے اس کو نفرت ہو جائے۔(از معارف القرآن،حضرت مولانا محمد شفیع صاحبؒ )
شریعت میں شراب کی نجاست کا درجہ
شریعت میں نجاست حقیقی کی دو قسمیں ہیں ایک نجاست جو بہت سخت ہے اسے نجاست غلیظہ کہتے ہیں جس میں آدمی کا پیشاب ،پاخانہ اور جانوروں کا پاخانہ اور حرام جانوروں یعنی کتے اور خنزیر وغیرہ کا پیشاب اور شراب شامل ہے۔جب کہ دوسری نجاست جو کہ ہلکی قسم کی ہے اس میں حلال جانور یعنی گائے، بھینس اور بکری وغیرہ کا پیشاب شامل ہے۔نتیجۃً یہاں سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ شراب حلال جانوروں یعنی گائے بھینس وغیرہ کے پیشاب سے بھی زیادہ غلیظ ،پلید ،گندی اور قابل نفرت چیز ہے۔اس کو آج کا بد بخت مسلمان بھی پی کر دنیا اور آخرت کو برباد کر رہا ہے۔
شراب خوری احادیث نبویﷺ کی روشنی میں
۱۔ ابن ماجہ کی ایک حدیث میں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

شَارِبُ الْخَمْرِ کَعَابِدِ الْوَثَنِ ۔

ترجمہ۔شراب پینے والا ایسا ہے جیسے کہ بت کو پوجنے والا۔
۲۔ بعض روایات میں ہے

۔شَارِبُ الْخَمْرِکَعَابِدِاللَّاتِ وَالْعُزّٰی۔

ترجمہ۔شراب پینے والا ایسا ہے جیسا کہ لات و عزی (مشرکین مکہ کے مشہوربت) کی پرستش کرنے والا۔

۳۔ اَلْخَمْرُ جَمَّاعُ الْاِثْمِO

(مشکوۃ ۔عن حذیفہ مرفوعاً) ترجمہ۔شراب گناہوں کا مجموعہ ہے۔
تشریح:۔ شراب پینے کے بعد انسان بہت سے گناہ کر بیٹھتا ہے اس لئے شراب کو گناہوں کی جڑ اور مجموعہ فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ بہت سے گناہوں کا احتمال ہے اسی سے لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔گالیاں بکی جاتی ہیں۔اس وجہ سے اس کی سزا بھی بڑی ہے ۔وہ یہ کہ شرابی کو اسی کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ زنا لواطت کرنا اور نماز کا چھوڑنا زیادہ اسی وجہ سے ہوتاہے۔

۴۔ عن ابی ہریرہؓ قال رسول اللہ ﷺاِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَثَمَنَھَا وَحَرَّمَ الْمَیْتَۃَ وَثَمَنَھَا وَحَرَّمَ الْخِنْزِیْرَ وَثَمَنَہٗO

(ابو داؤد)
ترجمہ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے شراب اور ا سکی قیمت ،مردار اور اس کی قیمت اور خنزیر اور اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دے دیا ہے۔
اے محترم بھائی! یہاں سے اندازہ کریں کہ شراب کا شمار مردار اور خنزیر کے ساتھ ہو رہا ہے۔یہ بات نہایت ہی عجیب ہے کہ ہم نے ان چیزوں کو تو حرام ہی سمجھا ہوا ہے اور قابل نفرت سمجھا ہوا ہے لیکن جس چیز کا شمار ان کے ساتھ ہو رہا ہے اسے پیتے ہوئے کوئی گھن اور کراہت محسوس نہیں ہوتی۔حالانکہ جیسے ہم مردار اور خنزیر کے گوشت سے نفرت کرتے ہیں اسی درجہ کی قابل نفرت چیز شراب ہے۔
۵۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر نشہ والی چیز حرام ہے جو بندہ دنیا میں اس کو پیئے گا اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ (قیامت کے دن) اس کو طینۃ الخبال پلائے گا تم جانتے ہو طینۃ الخبال کیا چیز ہے دوزخیوں کا پسینہ (رواہ البغوی)
۶۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ نہ کی (یونہی مر گیا) اللہ اس کو آخرت کی شراب سے محروم کر دے گا۔(رواہ البغوی)
۷۔ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ میں شہادت دیتا ہوں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت شراب پر،شراب پینے والے پر،پلانے والے پر،بیچنے والے پر ،خریدنے والے پر اور اس پر جس کے لئے اٹھا کر لے جائی ہو اور شراب کی قیمت کھانے والے پر ۔ (رواہ ابن ماجہ)
۸۔ حضرت ابن مسعودؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے شراب پی ۔اللہ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں فرماتا اس کے بعد اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے پھر دوبارہ اگر وہ شراب خوری کرتا ہے تو چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی اس کے بعد اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں پھر (تیسری بار) اگر لوٹ کر پہلی حرکت کرتا ہے تو توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔چوتھی مرتبہ میں چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور اگر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں فرماتا۔اور نہر خبال (کا پانی) اس کو پلائے گا۔
۹۔ حضرت عبداللہؓ بن عمرو کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں نہیں جائے گا ماں باپ کا نا فرمان،جواری اور دائمی شراب خور۔ (رواہ الدارمی)
۱۰۔ حضرت ابو امامہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے جہاں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے میرے رب نے مجھے ساز ،باجے ،بت،صلیب اور امور جاہلیت کو مٹانے کا حکم دیا ہے۔اور میرے رب نے قسم اٹھا کر فرمایا ہے کہ قسم ہے اپنی عزت کی کہ جو بندہ ایک گھونٹ شراب پئے گا میں اتنا ہی اس کو کچ لہوپلاؤں گا اور جو بندہ میرے خوف سے شراب چھوڑے گا میں اس کو قدس کے حوضوں سے (شربت) پلاؤں گا۔
۱۱۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔
مفہوم:۔ سب سے پہلے اسلام میں اللہ تعالیٰ کے جس حکم کی خلاف ورزی کی جائے گی۔اور اس کے حکم کو الٹ دیا جائے گا وہ شراب کی ممانعت کا حکم ہوگا اور پوچھا گیا۔یا رسول اللہ ﷺ کیوں ہو گا حالانکہ شراب کے متعلق اللہ تعالیٰ کے احکام بیان ہو چکے ہیں۔اور سب پر ظاہر ہیں ۔آپ ؐ نے فرمایا اس طرح ہو گا کہ شراب کا دوسرا نام رکھ لیں گے اور اس کو حلال قرار دیں گے۔(دارمی و مشکوۃ)

۱۲۔ حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سب ایسی چیزوں سے منع فرمایا جو نشہ لائیں (یعنی عقل میں فتور لائیں)
۱۳۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار شخصوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ ان کو جنت میں نہ بھیجے گا اور نہ ان کو جنت کی نعمتوں میں کچھ حصہ ملے گا۔
۱۔شراب کا عادی ۲۔سود خور
۳۔یتیم کا مال کھانے والا ۴۔ماں باپ کا نا فرمان
۱۴۔ حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس امت کے بعض افراد دن رات شراب اور لہو و لعب میں گزاریں گے ۔تو ایک دن صبح کو یہ لوگ بندر اور خنزیر کی صورتوں میں مسخ کر دئیے جائیں گے۔ان میں خسف بھی ہو گا۔(یعنی زمین میں دھنسا دئیے جائیں گے) ان پر آسمان سے پتھر برسیں گے۔لوگ کہیں گے کہ آج کی رات فلاں محلہ دھنس گیا ان پر قوم لوط کی طرح پتھر برسیں گے اور قوم عاد کی طرح آندھیوں سے تباہ کئے جائیں گے۔اس کی وجہ یہ ہو گی کہ لوگ شراب پئیں گے اور سود کھائیں گے ۔ریشمی لباس استعمال کریں گے گانے والیاں ان کے پاس جمع ہونگی اور یہ لوگ قطع رحمی کر یں گے۔(بحوالہ مسند احمد،ابن ابی دنیا)
۱۵۔ حضرت عبادہؓ کہتے ہیں کہ مجھے حضور اقدس ﷺ نے سات نصیحتیں کی ہیں جن میں سے چار یہ ہیں۔
۱۔ اللہ کا شریک کسی کو نہ بناؤ چاہے تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جائیں یا تم جلا د ئیے جاوٗ یا تم سولی پر چڑھ جاؤ۔
۲۔ اور جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑو۔جو جان بوجھ کر نماز چھوڑدے وہ مذہب سے نکل جاتا ہے۔
۳۔ اور اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی نہ کرو اس سے حق تعالیٰ ناراض ہو جاتے ہیں۔
۴۔ اور شراب نہ پیو کہ وہ ساری خطاؤں کی جڑ ہے۔
(رواہ الطبرانی فضائل اعمال ص۳۱۷)
۱۶۔ حضرت معاذ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے حضور اقدس ﷺ نے دس باتوں کی وصیت فرمائی یہ کہ
۱۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرناگو تمہیں قتل کر دیا جائے۔
۲۔ والدین کی نافرمانی نہ کرنا گو وہ تجھے اس کا حکم دیں کہ بیوی کوچھوڑ دے یا سارا مال خرچ کر دے۔
۳۔ فرض نماز جان بوجھ کر نہ چھوڑنا ،جو شخص فرض نماز جان بوجھ کر چھوڑ دیتا ہے اللہ کا ذمہ اس سے بری ہے۔
۴۔ شراب نہ پینا کہ یہ ہر برائی اور فحش کی جڑ ہے۔
۵۔ اللہ کی نافرمانی نہ کرنا اس سے اللہ تعالیٰ کا غضب اور قہر نازل ہوتا ہے۔
۶۔ لڑائی میں نہ بھاگنا چاہے سب ساتھی مر جائیں۔
۷۔ اگر کسی جگہ وبا پھیل جائے جیسے طاعون وغیرہ ہو تو وہاں سے نہ بھاگنا۔
۸۔ اپنے گھر والوں پر اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرنا۔
۹۔ تنبیہہ کے واسطے ان سے لکڑی نہ ہٹانا۔
۱۰۔ اللہ تعالیٰ سے ان کو ڈراتے رہنا۔(رواہ احمد والطبرانی۔ فضائل اعمال ص۳۱۷)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے