سینگی استعمال فرمانا

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے موضع ملل میں (جو مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ ہے) حالتِ احرام میں پشت قدم پر سینگی لگوائی ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے سینگی لگوانے کی اجرت کا مسئلہ پوچھا کہ جائز ہے یا نہیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ ابو طیبہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی تھی۔ آپ نے دو صاع کھانا (ایک روایت میں کھجور بھی آیا) مرحمت فرمایا اور ان کے آقاؤں سے سفارش فرما کر ان کے ذمہ جو محصول تھا اس میں کمی کرا دی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ سینگی لگانا بہترین دوا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سینگی لگوائی اور مجھے اس کی مزدوری دینے کا حکم فرمایا میں نے اس کو ادا کیا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی دونوں جانب پچھنے لگوائے اور دونوں شانوں کے درمیان اور اس کی اجرت بھی مرحمت فرمائی۔ اگر ناجائز ہوتی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے مرحمت فرماتے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانبوں میں اور ہر دو شانوں کے درمیان سینگی لگواتے تھے اور عموماً 17 یا19 یا 21تاریخ میں اس کا استعمال فرماتے تھے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگی لگانے والے کو بلایا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کا روزانہ کا محصول دریافت فرمایا تو انہوں نے تین صاع بتلایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کم کرا دیا اور سینگی لگانے کی اجرت مرحمت فرمائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے