سو ہم کو بچا دوزخ کے عذاب سے

تشریح:۔ یعنی عقل مند لوگ کائنات میں فکر اور اللہ کے ذکر کے بعد کہتے ہیں خدا وند! یہ عظیم الشان کارخانہ آپ نے بے کار پید انہیں کیا جس کا کوئی مقصد نہ ہو یقیناًان عجیب و غریب حکیمانہ انتظامات کا سلسلہ کسی عظیم و جلیل نتیجہ پر ختم ہونا چاہئے گویا یہاں سے انکا ذہن تصور آخرت کی طرف منتقل ہو گیا۔جو فی الحقیقت دنیا کی موجودہ زندگی کا آخری نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے ایک نہ ختم ہونے والی زندگی پید ا فرمائی جس میں دنیا کی زندگی کا نتیجہ نکلے گا جبکہ انسان ہمیشہ اس بات میں شک میں مبتلا رہا ہے اور کفار و مشرکین انبیاء کرام ؑ کے ساتھ اس بات پر جھگڑتے تھے اور توحید کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن اور اخروی زندگی کے بھی منکر تھے اور سوال کرتے تھے۔

وَکَانُوْا یَقُولُونَ ۵اَءِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَاباً وَّعِظَاماً ءَ اِنَّا لَمَبْعُوثُونَ Oاَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Oقُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ O لَمَجْمُوعُونَ ۵اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُومٍ O(الواقعہ ۴۷،۴۹،۵۰)

ترجمہ۔اور کہاکرتے تھے،کیا جب ہم مر گئے اور ہو چکے مٹی اور ہڈیاں کیاہم پھر اٹھائے جائیں گے ۔اور کیا ہمارے اگلے باپ دادے بھی،تو کہہ دے اگلے اور پچھلے سب اکٹھے ہونے والے ہیں ایک دن مقرر کے وقت پر۔
ایک اورجگہ پرمنکرین آخرت کا سوال نقل کیا گیا ہے

قَالَ مَنْ یُّحْیِی الْعِظَامَ وَہِیَ رَمِیْم(یٰسین ۷۸)

ٌکہنے لگا کون زندہ کرے گا ہڈیوں کو جب وہ کھوکھری ہو گئیں ۔
اللہ تعالیٰ قیامت،حساب و کتاب اور جنت و دوزخ کے نہ ماننے والوں کے نکمے دلائل کے جواب میں فرماتے ہیں۔

قُلْ یُحْیِیْہَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَہَا اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ نِO ا لَّذِیْ جَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَآ اَنتُم مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَO اَوَلَیْْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلآی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ ط بَلٰی ق وَہُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ O اِنَّمَآ اَمْرُہٗ اِذَآ اَرَادَ شَیْْئاً اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ Oفَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِہٖ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْْءٍ وَّاِلَیْْہِ تُرْجَعُونَ O(یٰسین ۷۹۔۸۳)

ترجمہ۔تو کہہ ان کو زندہ کرے گا جس نے بنایا ان کو پہلی بار اور وہ سب بنانا جانتا ہے ۔جس نے بنا دی تم کو سبز درخت سے آگ پھر اب تم اس سے سلگاتے ہو ۔کیا جس نے بنائے آسمان اور زمین نہیں بنا سکتا ان جیسے کیوں نہیں اوروہی ہے اصل بنانے والا سب کچھ جاننے والا۔اس کا حکم یہی ہے کہ جب کرنا چاہے کسی چیز کو تو کہے اس کو ہو وہ اسی وقت ہو جائے۔
دوسری جگہ ارشاد ہے۔

اَ یَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَ نْ یُّتْرَکَ سُدًی O اَ لَمْ یَکُ نُطْفَۃً مِّنْ مَّنِیٍّ یُّمْنٰی O ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّٰی O فَجَعَلَ مِنْہُ الزَّوْجَیْْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی Oاَلَیْْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یُّحْیِ ےَ الْمَوْتٰی O (القیمۃ ۳۶۔۴۰)

ترجمہ۔کیا خیال رکھتا ہے آدمی کہ چھوٹا رہے گا بے قید۔ بھلا نہ تھا وہ ایک بوندمنی کی جو ٹپکی۔ پھر تھا لہو جما ہوا پھراس نے بنایا اور ٹھیک کر اٹھایا۔ پھر کیا اس میں جوڑا نر اور مادہ۔ کیا یہ خدا زندہ نہیں کر سکتا مردوں کو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے