سونے اورآرام فرمانے کا ذکر

حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت آرام فرماتے تھے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے تھے اور یہ دعا پڑھتے رَبِّ قِنِي عَذَابَکَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ اے اللہ مجھے قیامت کے دن اپنے عذاب سے بچائیو۔

“حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر لیٹتے، اللَّهُمَّ بِاسْمِکَ أَمُوتُ وَأَحْيَا اے اللہ میں تیرے ہی نام سے مرتا (سوتا) اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوں گا۔ (سو کر اٹھوں گا) اور جب جاگتے تو یہ دعا پڑھتے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ تمام تعریفیں اللہ جل جلالہ کے لئے ہیں جس نے موت کے بعد زندگی عطا فرمائی اور اسی پاک ذات کی طرف قیامت میں لوٹنا ہے ۔”
“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہر شبانہ جب بستر پر لیٹتے تو دونوں ہاتھوں کو دعا مانگنے کی طرح ملا کر ان پر دم فرماتے تھے اور سورہ اخلاص اور معوذتین تین مرتبہ پڑھ کر تمام بدن پر سر سے پاؤں تک جہاں جہاں ہاتھ جاتا پھیر لیا کرتے تھے تین مرتبہ ایسے ہی کرتے، سر سے ابتدا فرماتے اور پھر منہ اور بدن کا اگلا حصہ پھر بقیہ بدن۔”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سوئے اور خراٹے لینے لگے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ کی یہ عادتِ شریفہ تھی کہ جب سوتے خراٹے لیتے تھے۔ پس حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر تیاری نماز کی اطلاع دی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی وضو نہیں کیا۔ اس حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا فَکَمْ مِمَّنْ لا کَافِيَ لَهُ وَلا مُؤْوِي ۔ تمام تعریفیں اللہ جل جلالہ عما نو آلہ کے لئے ہیں جس نے شکم سیر فرمایا اور سیراب کیا اور ہماری مہمات کے لئے خود کفایت فرمائی اور سونے کے لئے ٹھکانہ مرحمت فرمایا بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانہ دینے والا ہے ۔

ابوقتادة رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں رات کو چلنے کے بعد) اگر اخیر شب میں کچھ سویرے کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو دائیں کروٹ لیٹ کر آرام فرماتے اور اگر صبح کے وقت ٹھہرنا ہوتا تو اپنا دایاں بازو کھڑا کرتے اور ہاتھ پر سر رکھ کر آرام فرما لیتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے