سنت کو رواج دیجئے، سنت سے پیار کیجئے

میرے ننهے سعد کو ناجانے کس نے پانچ سو روپے کا نقلی نوٹ تهما دیا اب سعد میاں بڑا خوش، میں جب گهر پہنچا تو اُس نے خوشی میں نقلی نوٹ پانچ سو والا مجهے دکهایا، میں نے اپنی جیب سے دس کا اصلی نوٹ نکالا اور اُس سے کہا، اپنے والا نوٹ مجهے دو یہ جو دس روپے ہیں تمہیں دے دیتا ہوں، مگر سعد خوش نُما بڑے نوٹ کے بدلے چهوٹے نوٹ پہ راضی نہ ہوا، نادان کو کیا خبر جس نوٹ پہ حکومت کی مہر نہیں لگی ہوئی وہ خَواہ کتنا ہی خوبصورت نوٹ کیوں نہ ہو، اگر اُس سے کسی نفع لینے کی توقع کی گئی، تو جعلسازی کے الزام میں سزا دیا جائے گا، وہ نوٹ جس پہ حکومتِ وقت کی مہر لگی ہوگی، اگرچہ نوٹ چهوٹا ہی کیوں نہ ہو ضرور کسی نہ کسی حد تک نفع دے گا،
صاحب…! کُفر و شِرک و بدعت بهی ایسے ہی سمجھ لیجئے، کہ کُفر و شِرک و بدعت کا کوئی عمل یا طریقہ اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں، اور نہ ہی منفع بخش ہے، اگر چہ وہ عمل کتنا ہی خوش نما کیوں نہ ہو، کیوں کہ اللہ و رسولﷺ کی رضاء کی مہر اُس پہ ثَبت نہیں، مگر سُنت و شریعت کا کوئی عمل، عمل کے اعتبار سے معمولی ہی کیوں نہ ہو، مگر اللہ و رسولﷺ کی رضاء کی مہر ثَبت ہونے کی وجہ سے انسان کو نفع دے گا،
سنت کو رواج دیجئے، سنت سے پیار کیجئے، نفع تمہارا منتظر ہے…!