سفر آخرت کی پہلی منزل قبر

حضور نبی کریمؐ کا ارشاد گرامی ہے۔

اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِّیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِّنْ حُفَرِ النَّارِ۔

(ترمِذی ۴۵۸)

” یقیناًقبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے”۔
تشریح:۔ ایک مرتبہ حضور ؐ نماز کے لئے تشریف لائے۔تو صحابہؓ کرام ہنس رہے تھے آپؐ نے فرمایااگر تمہیں موت یاد ہوتی تو تم نہ ہنستے،پس موت کو خوب یاد کیا کرو،کیونکہ قبر ہر روز یہ کہتی ہے میں دوری کا گھر ہوں ،میں تنہائی کا گھر ہوں ،میں مٹی کا گھر ہوں، میں کیڑوں کا گھر ہوں ۔ جب نیک آدمی دفن کیا جاتا ہے تو قبر کہتی ہے ۔”مرحبا”توزمین پرچلنے والوں میں مجھے محبوب ہے آج تیرا معاملہ میرے سپرد کیا گیا ہے تو عنقریب مجھے دیکھ لے گا۔پھر فرمایا جہاں تک نظردوڑتی ہے اس کے لئے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جب کافر یا گناہ گار دفن کیا جاتا ہے تو قبر کہتی ہے ۔تیرا آنا نا مبارک ہو تو زمین پر چلنے والوں میں مجھے برا لگتا ہے آج پتہ چل جائے گا تو چاروں طرف سے زمین مل جاتی ہے اور اس کی ہڈیاں پسلیاں پس جاتی ہیں اور ستر “۷۰”زہریلے سانپ اس پر چھوڑ دئیے جاتے ہیں ہر ایک سانپ ایسا زہریلا ہوتا ہے اگر وہ زمین پرپھنکار مار دے تو زمین سے کوئی شے نہ اُگے ۔یہ عذاب کافر کو یا گنہگار مسلمان کو قیامت تک ہوتا رہے گا۔پھر حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے اور یہ آخرت کی منازل میں پہلی منزل ہے اگر یہ اچھی ہو گی تو باقی منزلیں بھی اچھی ہونگی اور اگر خدا نخواستہ یہ خراب ہو گی ،توباقی منزلوں میں بھی ناکامی ہو گی۔
ایک مرتبہ آپ ؐ سواری پر تشریف لے جارہے تھے کہ راستہ میں آپؐ کا گزر مشرکین کی چند قبروں پرہوا تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا یہ لوگ عذاب قبر میں مبتلا ہیں پس اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم لوگ دفن کرنا چھوڑ دو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی اسی طرح عذاب قبر کی آواز سنا دے جسے میں سن رہا ہوں۔(رواہ مسلم ،ج ۲، ص۳۸۶)
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا میں تمہیں پہلے قبروں پر جانے سے منع کرتا تھامگر اب سنو تم لوگ قبروں پر جایا کرو کیونکہ وہ دلوں کو نرم کرتی ہیںآنکھ سے آنسو جاری کرتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۔ (رواہ الحاکم شرح الصدور ۴۹)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایمان والوں میں سے کون سا شخص سب سے زیادہ عقل مند ہے؟ آپؐ نے فرمایاان میں سے جو سب سے زیادہ موت کو یاد کرنے والا ہو او رموت کے بعد کے لئے جو سب سے زیادہ عمدہ تیاری کرنیو الا ہو ایسے ہی لوگ سب سے زیادہ عقل مند ہیں۔
حضرت شداد بن اوسؓ فرماتے ہیں آنحضرت ؐ نے ارشاد فرمایا۔

اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ اَتْبَعَ نَفْسَہٗ ھَوَا ھَا وَتَمنّٰی عَلَی اللّہِ ۔

(الترمذی)

ترجمہ۔عقل مند آدمی وہ ہے جو اپنے نفس کو لگا م دے اور مرنے کے بعد کے لئے عمل کرے اور احمق ہے وہ شخص جو اپنے نفس کی خواہش کی پیروی کرے اور اللہ سے امیدیں باندھے رکھے۔
رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا

کَفیٰ بالمَوتِ واعِظاً۔

(ترجمہ) مخلوق کی نصیحت کے لئے موت کافی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے