سبگتگین کا انتقال

سبگتگین نے اپنی وفات سے چند روز قبل شیخ ابوالفتح سے کہا، ھم انسان نازل شدہ مصائب کو دور کرنے کی تدابیر اور لاحق شدہ امراض سے چُھٹکارا حاصل سبگتگین نے اپنی وفات سے چند روز قبل شیخ ابوالفتح سے کہا، ھم انسان نازل شدہ مصائب کو دور کرنے کی تدابیر اور لاحق شدہ امراض سے چُھٹکارا حاصل کرنے کے طریقے سوچتے رھتے ھیں۔ یہ ایسا ھی ھے جیسے قصاب کسی بھیڑ کو بال کترنے کے لئے پہلی مرتبہ زمین پر پٹکتا ھے اور اُسکے پاؤں مضبوطی سے باندھ دیتا ھے۔ بھیڑ اپنے اوپر نئی اور عجیب مصیبت دیکھ کر زندگی سے مایوس ھو جاتی ھے۔ اور مرنے کے لئے تیار ھو جاتی ھےلیکن قصاب اپنے کام سے فارغ ھو کر اسے آزاد چھوڑ دیتا ھے۔ اور وہ خوشی سے اچھلنے لگتی ھے۔ دوسری مرتبہ پھر جب قصاب اسے پکڑتا ھے تو وہ شک و شبہ میں مبتلا ھوتی ھے اور خوف و امید میں معلّق ھو جاتی ھے۔
اور جب قصاب اسکے بال کُتر کر اسے پھر آزاد کر دیتا ھے تو وہ پھر خوش ھو جاتی ھے۔ اور خوف کا احساس اُس کےدل سے نکل جاتا ھے۔ تیسری مرتبہ جب قصاب اسے ذبح کرنے کے خیال سے زمین پر گراتا ھے تو اُسکےدل میں کسی قِسم کا خوف نہیں ھوتا۔ اور وہ یہ خیال کرتی ھے کہ پہلے کی طرح اس بار بھی تھوڑی سی دیر کے لئے اُسکی آزادی سلب کی گئی ھے۔ اور وہ کچھ لمحوں کے بعد پہلے کی طرح آزاد ھو جائے گی۔ وہ بے خبری اور بے خوفی کے عالم میں رھتی ھے۔ اور اسی عالم میں اسکے گلے پر چھری پھیر دی جاتی ھے اور وہ دنیا سے گزر جاتی ھے۔ ھم انسان بھی چونکہ ھمیشہ طرح طرح کی مصیبتوں اور نِت نئے امراض میں آئے دن مبتلا ھوتے رھتے ھیں اِس لئے ھر مصیبت اور ھر مرض میں اُسکی رھائی کا خیال کر کے مطمئن ھو جاتے ھیں یہاں تک کہ آخری مصیبت موت کا پیغام بن کر آتی ھے اور اسی غفلت کے عالم میں ھمارے گلے میں موت کا پھندا ڈال کر ھمیں اس دنیا سے لے جاتی ھے

تاریخ فرشتہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے