سالن کا ذکر

زہدم کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھا انکے پاس کھانے میں مرغی کا گوشت آیا مجمع میں سے ایک آدمی پیچھے ہٹ گیا ابو موسیٰ نے اس سے ہٹنے کی وجہ دریافت کی اس نے عرض کیا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا ہے اس لئے میں نے مرغی نہ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ آؤ اور بے تکلف کھاؤ میں نے خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت نوش فرماتے دیکھا اگر ناجائز یا نا پسند ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تناول فرماتے ۔
سفینہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا ہے ۔

“زہدم کہتے ہیں کہ ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھے ان کے پاس کھانا لایا گیا۔ جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا مجمع میں ایک آدمی قبیلہ بنو تیم کا بھی تھا جو سرخ رنگ کا تھا، بظاہر آزاد شدہ غلام معلوم ہوتا تھا۔ اس نے یکسوئی اختیار کی ابو موسیٰ نے اسے متوجہ ہونے کو کہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرغی تناول فرمانے کا ذکر فرمایا اس نے عذر کیا کہ میں نے اس کو کچھ ایسی ہی چیز کھاتے دیکھا جس کی وجہ سے مجھے اس سے کراہت آتی ہے اس لئے میں نے اس کے نہ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے۔”
ابو اسید رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کا تیل کھانے میں بھی استعمال کر اور مالش میں بھی اس لئے کہ بابرکت درخت کا تیل ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی ارشاد نقل کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کا پھل کھاؤ اور مالش کرو اس لئے کہ وہ مبارک درخت سے پیدا ہوتا ہے

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب تھا ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعوت پر تشریف لے گئے (راوی کو شک ہے کہ یہ قصہ کس موقع کا ہے) جس میں کدو تھا چونکہ مجھے معلوم تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مرغوب ہے اس لئے اس کے قتلے ڈھونڈ کر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیتا تھا۔
جابر بن طارق رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو کدو کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے جا رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ اس کا کیا بنے گا۔ فرمایا کہ اس سے سالن میں اضافہ کیا جائے گا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ سرکہ بھی کیسا اچھا سالن ہے۔

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا تم کھانے پینے کی خاطر خواہ نعمتوں میں نہیں ہو حالانکہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے ہاں معمولی قسم کی کھجوروں کی مقدار نہ ہوتی تھی کہ جس سے شکم سیر ہو جائے۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ذراع یعنی دست کا گوشت مرغوب تھا اور اسی میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا۔ گمان یہ ہے کہ یہود نے زہر دیا تھا۔

یوسف رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ دیکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی کا ٹکڑا لے کر اس پر ایک کھجور رکھی اور فرمایا کہ یہ سالن ہے اور نوش فرمایا۔

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پیٹھ کا گوشت بہترین گوشت ہے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرتبہ دعوت کی میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو کی روٹی اور کدو گوشت کا شوربا پیش کیا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ پیالہ کی سب جانبوں سے کدو کے ٹکڑے تلاش فرما رہے تھے۔ اس وقت سے مجھے کدو مرغوب ہو گیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور شہد بے انتہا پسند تھا۔

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما فرماتی ہیں کہ انہوں نے پہلو کا بھنا ہوا گوشت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا اور پھر بلا وضو کئے نماز پڑھی۔
عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھنا ہوا گوشت مسجد میں کھایا۔

مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مہمان ہوا کھانے میں ایک پہلو بھنا ہوا لایا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چاقو لے کر اس میں سے کاٹ کاٹ کر مجھے مرحمت فرما رہے تھے اسی دوران میں حضرت بلال نے آ کر نماز کی تیاری کی اطلاع دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خاک آلود ہوں اسکے دونوں ہاتھ۔ کیا ہوا اس کو کہ ایسے موقع پر خبر کی اور پھر چھری رکھ کر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ مغیرہ کہتے ہیں کہ دوسری بات میرے ساتھ یہ پیش آئی کہ میری مونچھ بہت بڑھ رہی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لاؤ مسواک پر رکھ کر ان کو کتر دوں یا یہ فرمایا کہ مسواک پر رکھ کر ان کو کتر دو۔ راوی کو الفاظ میں شک ہے کہ کیا لفظ فرمائے؟

ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے گوشت آیا۔ اس میں سے دست (یعنی بونگ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا (یعنی چھری وغیرہ سے نہیں کاٹا)۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا کر دریافت فرمایا کرتے تھے کہ کچھ کھانے کو رکھا ہے جب معلوم ہوتا کہ کچھ نہیں تو فرماتے کہ میں نے روزہ کا ارادہ کر لیا ہے ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس ایک ہدیہ آیا ہوا رکھا ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا چیز ہے میں نے عرض کیا کہ کھجور کا ملیدہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے روزہ کا ارادہ کر رکھا تھا۔ پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا۔

ام منذر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے ۔ ہمارے یہاں کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے تناول فرمانے لگے حضرت علی رضی اللہ عنہ جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ بھی نوش فرمانے لگے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ روک دیا کہ تم ابھی بیماری سے اٹھے ہو تم مت کھاؤ وہ رک گئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تناول فرماتے رہے ام منذر کہتی ہیں کہ پھر میں نے تھوڑے سے جو اور چقندر لے کر پکائے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا کہ یہ کھاؤ یہ تمھارے لئے مناسب ہے۔
“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بونگ کا گوشت کچھ لذت کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند نہ تھا، بلکہ گوشت چونکہ گاہے گاہے پکتا تھا اور یہ جلدی گل جاتا ہے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پسند فرماتے تھے، تاکہ جلدی سے فارغ ہو کر اپنے مشاغل میں مصروف ہوں ۔”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔

“حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا (حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد بہن) فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ میں) میرے پاس تشریف لائے اور یہ فرمایا کہ تیرے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ میں نے عرض کیا کہ سوکھی روٹی اور سرکہ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے آؤ وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سرکہ نہ ہو۔”

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے کہ ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے ۔ جیسے ثرید کی فضیلت ہے تمام کھانوں پر۔

ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ پنیر کا ٹکڑا نوش فرما کر وضو فرماتے دیکھا اور پھر ایک دفعہ دیکھا کہ بکری کا شانہ نوش فرمایا اور وضو نہیں فرمایا۔

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ کھجور اور ستو سے فرمایا تھا۔

سلمیٰ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ امام حسن اور عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کھانا پسند تھا اور اس کو رغبت سے نوش فرماتے تھے وہ ہمیں پکا کر کھلاؤ۔ سلمیٰ نے کہا پیارے بچو اب وہ کھانا پسند نہیں آئے گا (وہ تنگی میں ہی پسند ہوتا تھا) انہوں نے فرمایا کہ نہیں ضرور پسند آئے گا وہ اٹھیں اور تھوڑے سے جو لے کر ہانڈی میں ڈالے اور اس پر ذرا سا زیتون کا تیل ڈالا اور کچھ مرچیں اور زیرہ وغیرہ پیس کر ڈالا اور پکا کر رکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند تھا۔

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو ہم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری ذبح کی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے (دلداری کے لئے اظہار مسرت کی طرز پر) فرمایا کہ بظاہر ان لوگوں کو یہ ہے کہ ہمیں گوشت مرغوب ہے امام ترمذی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اور بھی قصہ ہے جس کو مختصر کر دیا گیا۔

“ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہانڈی پکائی، چونکہ آقائے نامدار علیہ الصلوة والسلام کو بونگ کا گوشت زیادہ پسند تھا اس لئے میں نے ایک بونگ پیش کی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری طلب فرمائی، میں نے دوسری پیش کی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری طلب فرمائی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کی دو ہی بونگیں ہوتی ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تو چپ رہتا تو میں جب تک مانگتا رہتا، اس دیگچی سے بونگیں نکلتی رہتیں ۔”

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ہانڈی اور پیالہ کا بچا ہوا کھانا مرغوب تھا۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بھی نقل کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ سرکہ بھی کیا ہی اچھا سالن ہے

“حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک انصار عورت کے مکان پر تشریف لے گئے میں بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا انہوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری ذبح کی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کچھ تناول فرمایا اس کے بعد کھجور کی چنگیری میں کچھ تازہ کھجوریں لائیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے بھی تناول فرمایا پھر ظہر کی نماز کے لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے نماز ادا کی ، پھر تشریف لانے پر انہوں نے بچا ہوا گوشت سامنے رکھا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تناول فرمایا اور عصر کی نماز کے لئے دوبارہ وضو نہیں کیا اس پہلے والے وضو سے نماز ادا فرمائی۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے