زنابہت بڑی بے حیائی اور نہایت برا راستہ

زنا چونکہ ایک انتہائی سنگین گناہ ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے ا س سے بچنے کے لئے ایک ایسا بہترین اور آسان طریقہ بتایا ہے کہ جو آدمی اس پر عمل کرے وہ زنا سے ضرور محفوظ رہے گا اور دنیا اورآخرت کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَلَا تَقْرَبوُاالزِّنآی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ط وَسَآ ءَ سَبِیْلاً

(بنی اسرائیل ۳۲)
ترجمہ۔اور زنا کے پاس نہ جاؤ وہ ہے بے حیائی اور بری راہ ہے۔
تشریح۔ یہاں ان تمام کاموں سے بچنے کا حکم ہے جو زنا کی طرف مائل کرتے ہیں مثلاً غیر محرم کو دیکھنا ،ان کی آواز سننا، غیر محرم کو چھونا،گانا باجا سننا، بد کاروں کی صحبت اختیار کرنا،عورتوں کا اپنے خاوند کے علاوہ کسی اور کے لئے جسم کی نمائش کرنا،عورتوں اور مردوں کا میل جول یہ تمام راستے حرام قرار دے دیے کیونکہ جو لوگ ان کاموں میں مبتلا ہو تے ہیں وہی زنا کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں لہذا اللہ کریم نے وہ تمام راستے ہی بند کر دئیے تاکہ آدمی با آسانی اس مہلک گناہ سے بچ جائے۔یہ ایسا برا راستہ ہے کہ اس سے بے شمار نقصانات اور برائیاں پھیلتی ہیں ،نسب خراب ہو جاتے ہیں اور قتل و غارت ہوتی ہے،بے حیا لڑکیاں آشناؤں کے ساتھ قتل ہوتی ہیں اور ان کے غیرت مند بھائی پھانسیوں اور سولیوں پر لٹکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے آ کر عرض کی کہ مجھے زنا کی اجازت دے دیجیے،حاضرین نے ڈانٹا کہ خبر دار ایسی بات نہ کرو چپ رہو۔حضور اکرم ﷺ نے اس کو فرمایا کہ میرے قریب آ جاؤ ۔ وہ قریب آ کر بیٹھا تو آپ ؐ نے فرمایا کہ کیا تو یہ حرکت اپنی ماں،بہن،بیٹی ،پھوپھی، خالہ میں سے کسی کے ساتھ پسند کرتا ہے اس نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ خدا مجھ کو آپ ؐ پر قربان کرے ہرگز نہیں ،فرمایا دوسرے لوگ بھی اپنی ماوٗں، بہنوں، بیٹیوں، پھوپھیوں،خالاوٗں کے لئے یہ فعل گوارا نہیں کرتے۔پھر آپ ؐ نے دعا فرمائی کہ الٰہی اس کے گناہ کو معاف فرما اور اس کے دل کو پاک اور شرمگاہ کو محفوظ فرما دے۔ ابو امامہؓ فرماتے ہیں اس کے بعد اس شخص کی یہ حالت ہوگئی کہ کسی غیر محرم کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے