روٹی کا ذکر

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل وعیال نے مسلسل دو دن کبھی جو کی روٹی سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جو کی روٹی کبھی نہیں بچتی تھی

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والے کئی کئی رات پے درپے بھوکے گذار دیتے تھے کہ رات کو کھانے کے لئے کچھ موجود نہیں ہوتا تھا اور اکثر غذا آپ کی جو کی روٹی ہوتی تھی گو کبھی کبھی گہیوں کی روٹی بھی مل جاتی تھی ۔

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سفید میدہ کی روٹی بھی کھائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اخیر عمر تک کبھی میدہ آیا بھی نہیں ہو گا۔ پھر سائل نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تم لوگوں کے یہاں چھلنیاں تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں تھیں سائل نے پوچھا کہ پھر جو کی روٹی کیسے پکاتے تھے؟ (چونکہ اس میں تنکے وغیرہ زیادہ ہوتے ہیں) سہل نے فرمایا کہ اس آٹے میں پھونک مار لیا کرتے جو موٹے موٹے تنکے ہوتے تھے وہ اڑ جاتے تھے۔ باقی گوندھ لیتے تھے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانا میز پر تناول نہیں فرمایا نہ چھوٹی طشتریوں میں نوش فرمایا نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کبھی چپاتی پکائی گئی ۔ یونس کہتے ہیں میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ پھر کھانا کس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہی چمڑے کے دسترخوان پر۔

مسروق رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گیا انہوں نے میرے لئے کھانا منگایا اور یہ فرمانے لگیں کہ میں کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتی مگر میرا رونے کو دل چاہتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حالت یاد آتی ہے جس پر ہم سے مفارقت فرمائی ہے کہ کبھی ایک دن میں دو مرتبہ گوشت یا روٹی سے پیٹ بھر کر کھانے کی نوبت نہیں آئی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام عمر میں کبھی جو کی روٹی سے بھی دو دن پے درپے پیٹ نہیں بھرا

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اخیر تک میز پر کھانا تناول نہیں فرمایا اور نہ چپاتی نوش فرمائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے