رونےکا ذکر

عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینہ سے ایسی آواز نکل رہی تھی جیسے ہنڈیا کا جوش ہوتا ۔

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ قرآن شریف سناؤ ( شاید حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے ارشاد فرمایا ہو کہ بہت سی وجوہ اس کی ہو سکتی ہیں مثلاً یہی کہ قرآن شریف سننے کی سنت بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت ہو جائے) میں نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی پر تو نازل ہوا ہے اور آپ ہی کو سناؤں ۔ (شاید ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ خیال ہوا کہ سنان تبلیغ اور یاد کرانے کے واسطے ہوتا ہے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ دوسرے سے سنوں ۔ میں نے امتثال حکم میں سنانا شروع کیا اور سورہ نساء (جو چوتھے پارہ کے پونے سے شروع ہوتی ہے) پڑھنا شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچا فکیف اذاجئنا من کل امة بشہید وجئنا بک علی ھٰؤلآء شہیدا۔ تو میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا کہ دونوں آنکھیں گریہ کی وجہ سے بہہ رہی تھیں۔

“عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا۔ (یہ قصہ جمہور کے نزدیک ا ہجری کا ہے) حضور اقدس صلی اللہ مسجد میں تشریف لے گئے اور نماز شروع فرما کر اتنی دیر تک کھڑے رہے۔ گویا رکوع کرنے کا ارادہ ہی نہیں ہے ( دوسری روایت میں ہے کہ سورہ بقرہ پڑھی تھی) اور پھر رکوع اتنا طویل کیا کہ گویا رکوع سے اٹھنے کا ارادہ ہی نہیں پھر ایسے ہی رکوع کے بعد سر اٹھا کر قومہ میں بھی اتنی دیر تک کھڑے رہے گویا سجدہ کرنا ہی نہیں ہے پھر سجدہ کیا اور اس میں بھی سر مبارک زمین پر اتنی دیر تک رکھے رہے گویا سر مبارک اٹھانا ہی نہیں اسی طرح سجدہ سے اٹھ کر جلسہ اور پھر جلسہ کے بعد دوسرے سجدہ میں غرض ہر ہر رکن اس قدر طویل ہوتا تھا کہ گویا یہی رکن اخیر تک کیا جائے گا۔ دوسرا کوئی رکن نہیں ہے۔ (اسی طرح دوسری رکعت پڑھی اور اخیر سجدہ میں) شدت غم اور جوش سے سانس لیتے تھے اور روتے تھے اور حق تعالیٰ شانہ کی بارگاہ عالی میں یہ عرض کرتے تھے کہ اے اللہ تو نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میری موجودگی تک امت کو عذاب نہ ہو گا اے اللہ تو نے ہی یہ وعدہ کیا تھا کہ جب تک یہ لوگ استغفار کرتے رہیں گے عذاب نہیں ہو گا، اب ہم سب کے سب استغفار کرتے ہیں (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس مضمون کی طرف اشارہ ہے جو کلام اللہ شریف میں نویں پارہ کے اخیر میں ہے (وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ) 8۔ الانفال:33) اس آیت شریفہ کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ ایسا نہ کریں گے کہ ان لوگوں میں آپ کے موجود ہوتے ہوئے ان کو عذاب دیں اور اس حالت میں بھی ان کو عذاب نہ دیں گے کہ وہ استعغفار کرتے رہتے ہوں) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آفتاب نکل چکا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد وعظ فرمایا جس میں اللہ تعالی کی حمد و ثناء کے بعد یہ مضمون فرمایا کہ شمس و قمر کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے گہن نہیں ہوتے، بلکہ یہ حق تعالیٰ جل شانہ کی دو نشانیاں ہیں ( جن سے حق سبحانہ اپنے بندوں کو عبرت دلاتے ہیں اور ڈراتے ہیں) جب یہ گہن ہو جایا کریں تو اللہ جل جلالہ کی طرف فورا متوجہ ہو جایا کرو۔ اور استغفار و نماز شروع کر دیا کرو۔”

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لڑکی قریب الوفات تھیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو گود میں اٹھایا اور اپنے سامنے رکھ لیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی رکھے رکھے ان کی وفات ہو گئی ام ایمن (جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک باندی تھیں) چلا کر رونے لگیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ کے نبی کے سامنے ہی چلا کر رونا شروع کر دیا۔ (چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بھی ٹپک رہے تھے اس لئے انہوں نے عرض کیا کہ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) آپ بھی تو رو رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رونا ممنوع نہیں یہ اللہ کی رحمت ہے (کہ بندوں کے قلوب کو نرم فرمائیں اور ان میں شفقت و رحمت کا مادہ عطا فرمائیں) پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ہر حال میں خیر ہی میں رہتا ہے حتی کہ خود اس کا نفس نکالا جاتا ہے اور وہ حق تعالیٰ شانہ کی حمد کرتا ہے۔

“حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی (ام کلثوم رضی اللہ عنہا) کی قبر پر تشریف فرما تھے اور آپ کے آنسو جاری تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ قبر میں وہ شخص اترے جس نے آج رات مجامعت نہ کی ہو۔”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی پیشانی کو ان کی وفات کے بعد بوسہ دیا۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو ٹپک رہے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے