دوستی کے متعلق ارشادات نبویؐ

۱۔حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے رسول اللہ ؐنے فرمایا۔

لاَ تُصَاحِبْ اِلَّا مُؤْمِناً وَّلَا یَأْکُلْ طَعَامَکَ اِلَّا تَقِیٌّ۔

(ترمذی و ابو داؤد و دارمی)
ترجمہ۔مومن کے بغیر کسی کو دوست نہ بناؤ اور تمہارا کھانا ( بطور دوستی) پرہیز گار آدمی کے علاوہ کوئی نہ کھائے۔
۲۔ حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

اَلْمَرْءُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ فَلْیَنْظُرْ مَنْ یُّخَالِلُ۔

(رواہ البخاری)
ترجمہ۔ہر انسان (عادتاً) اپنے دوست کے دین اور طریقہ پر چلا کرتا ہے اس لئے دوست بنانے سے پہلے غور کر لیا کرو کہ کس کو دوست بنا رہے ہو۔
۳۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

اِیَّاکَ وَقَرِیْنَ السُّوْ ءِ فَاِنَّکَ لَتُعْرَفُ بِہٖ ۔

(ابن عساکر)
ترجمہ۔تم برے دوست سے بچو اس لئے کہ تمہیں اسی کے ذریعے پہچانا جائے گا۔
۴۔ حضر ت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ہمارے مجلسی دوستوں میں سے کون لوگ بہتر ہیں تو آپؐ نے اچھے دوست کی مندرجہ ذیل صفات بیان فرمائی

۔مَنْ ذَکَّرَکُمْ بِااللّٰہِ رُؤْ یَتُہ‘ وَزَادَ فِیْ عِلْمِکُمْ مَنْطِقُہ‘ وَذَکَّرَکُمْ بِا الْاٰ خِرَۃِ عَمَلُہٗ۔

(رواہ البزار)
ترجمہ۔وہ شخص جس کو دیکھ کر خدا یاد آئے اور جس کی گفتگو سے تمہارا علم بڑھے اور جس کے عمل کو دیکھ کر آخرت کی یاد تازہ ہو۔
۵۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا

۔اَلْوَحْدَۃُخَیْرُ ٗ مِّنْ جَلِیْسِ السَّوْءِ وَالْجَلِیْسُ الصَّالِحُ خَیْرٌ مِّنَ الْوَحْدَۃِ۔

(بیہقی صفحہ ۴۱۴)
ترجمہ۔برے دوست یا ساتھی سے بہتر تنہائی ہے اور تنہائی سے بہتر نیک صالح دوست ہے۔
تشریح:۔اگر ہم اللہ کے پیارے رسول ﷺ کے ان مبارک ارشادات کی روشنی میں اپنی دوستی کو پر کھیں اور آپ ؐ کی نصیحت کے مطابق دوست
بنائیں تو ہر برائی سے محفوظ ہو کر اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ بندہ بننا انتہائی آسان ہے لہذا جن لوگوں کو اپنے محبوب پیغمبر ﷺ سے سچی محبت ہے وہ کبھی بھی ان مبارک فرامین کو نظر انداز نہیں کریں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو رسول ﷺ کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے