دوستی کے قابل شخص کی صفات (از کیمیائے سعادت۔ امام غزالی ؒ )

اول:۔یہ کہ عقل مند ہو کیوں کہ احمق کی دوستی سے کوئی فائدہ نہیں آخرت میں اس کا نتیجہ مصیبت اور وحشت ہوتی ہے ۔کیونکہ احمق جب تیرے ساتھ بھلائی کرنا چاہے تو شاید حماقت کی وجہ سے کوئی ایسا کام کر بیٹھے جس میں تیرا نقصان ہو اور بزرگوں نے کہا ہے کہ احمق سے دور رہنا ثواب ہے اور احمق کے چہرہ پر نظر ڈالنا گناہ ہے اور احمق وہ ہے جو کاموں کی حقیقت کو نہ جانے اور جب اس کو بتلائیں تو نہ سمجھے۔
دوم۔ یہ کہ نیک خلق ہو کیونکہ بد خلق سے نیکی کی کوئی امید نہیں ہوتی جب اس کی بد خلقی حرکت کرے گی تو وہ تیرے حق کو پامال کر دے گا اور خوف نہ کرے گا۔
سوم:۔ یہ کہ صلاحیت رکھتا ہو جو شخص گناہ پر اصرار رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرے وہ قابل اعتماد نہیں ۔حق تعالیٰ فرماتے ہیں۔

وَلاَ تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوَاہُ۔

(کہف)
ترجمہ۔یعنی ایسے شخص کی ا طاعت نہ کر کہ جس کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا اور اپنی خواہشات کی اتباع کرتا ہے۔
تشریح:۔اگر بدعتی ہے تو اس سے دور رہنا چاہئے کیونکہ اس کی بدعت دوسرے میں سرایت کر جاتی ہے اور اس کی شامت کا اثر دوسرے تک پہنچتا ہے۔اور کوئی بدعت اس بدعت سے زیادہ نہیں جو اس زمانہ میں پید اہو گئی ہے کیونکہ بعض بدعتی کہتے ہیں کہ لوگوں کو نصیحت نہ کرنی چاہئے اور کسی کو فسق و گناہ سے نہیں روکنا چاہئے کیونکہ ہمیں خلق خدا سے دشمنی نہیں ہے اور نہ ہم ان پر حاکم ہیں ۔یہ بات زبردست بدعت ہے اور ایسے لوگوں سے تعلقات نہ رکھنے چاہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے