درود شریف سے غصہ کی آگ بجھائیں

غصہ ایک فطری عمل ہے ایک حد میں رہے تو نقصان نہیں لیکن حد سے بڑھ جائے تو دین و دنیا کا نقصان ہوتا ہے علمائے کرام نے فرمایا ہے جب آدمی کو غصہ آ رہا ہو اور اندیشہ ہو کہ غصہ میں کہیں آپے سے باہر ہو کر کوئی کام شریعت کے خلاف نہ ہو جائے یا کہیں زیادتی نہ ہو جائے یا غصہ میں کہیں مار پیٹ تک نوبت نہ پہنچ جائے تو اس وقت غصہ کی حالت میں درود شریف پڑھ لینا چاہیے۔ درود شریف پڑھنے سے انشا اللہ تعالی غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور وہ غصہ سے بے قابو نہ ہو گا

عرب کے لوگوں میں آج تک یہ روایت چلی آتی ہے کہ جہاں کہیں دو آدمیوں میں تکرار یا لڑائی کی نوبت آ جائے تو فورا ان میں سے یا کوئی تیسرا کہتا ہے کہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجو اس کے جواب میں دوسرا آدمی درود شریف پڑھنا شروع کر دیتا ہے بس اسی وقت لڑائی ختم ہو جاتی ہے دونوں فریق ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور دونوں کا غصہ ختم ہو جاتا ہے عبقری میگزین 2011 ص ۴۵