خوشبو لگانے کا ذکر

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سکہ تھا اس میں سے خوشبو استعمال فرماتے تھے۔

ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ خوشبو کو رد نہیں کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوشبو کو رد نہ فرمایا کرتے تھے۔

“ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ مردانہ خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو پھیلتی ہوئی ہو اور رنگ غیر محسوس ہو (جیسے کیوڑہ وغیر) اور زنانہ خوشبو وہ ہے جس کا رنگ غالب ہو اور خوشبو مغلوب (جیسے حنا، زعفران وغیرہ)۔”

ابو عثمان نہدی تابعی کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو ریحان دیا جائے اس کو چاہئے کہ لوٹائے نہیں اس لئے (اس کی اصل) جنت سے نکلتی ہے۔

جریر بن عبداللہ بجلی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں (معائنہ کے لئے) پیش کئے گئے ۔ انہوں نے چادر اتار کر صرف لنگی میں چل کر اپنا امتحان کرایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ چادر لے (معائنہ ہو چکا) پھر قوم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ میں نے جریر سے زیادہ خوبصورت کبھی کسی کو نہیں دیکھا کہ سوائے حضرت یوسف علیہ السلام کی صورت کے جیساکہ ہم تک پہنچا۔

“حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں نہیں لوٹانی چاہئیں تکیے اور تیل، خوشبو اور دودھ۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے