حلیہ مبارک

حضور اقدس ﷺ جمال مبارک کو کماحقہ تعبیر کر دینا نا ممکن ہے نور مجسم کی تصویر کشی قابو سے باہر ہے لیکن اپنی ہمت و وسعت کے مطابق حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین نے اس کو ضبط فرمایا ہے جس کا کچھ بیان یہ ہے قرطبی کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کا پورا جمال ظاہر نہیں کیا گیا ورنہ آدمی حضور ﷺ کو دیکھنے کی طاقت نہ رکھتے

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالی فرماتے ہیں

کہ حضور اقدس ﷺ نہ بہت لانبے قد کے تھے اور نہ پستہ قد بلکہ آپ کا قد مبارک درمیانہ تھا اور نیز رنگ کے اعتبار سے نہ بالکل چونہ کی طرح، نہ بالکل گندم گوں کہ سانولا پن آ جائے بلکہ چودھویں رات کے چاند سے زیادہ روشن پر نور اور کچھ ملاحت لئے ہوئے تھے
حضور اقدس ﷺ کے بال نہ بالکل سیدھے تھے نہ بالکل پیچدار بلکہ ہلکی سے پیچیدگی اور گھنگریالہ پن تھا

ترجمہ: دوسری روایت میں بھی حضرت انس رضی اللہ تعالی سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ درمیانہ قد تھے نہ زیادہ طویل نہ کچھ ٹھگنے نہایت خوبصورت معتدل بدن والے۔ حضور ﷺ کے بال نہ بالکل پیچیدہ اور نہ بالکل سیدھے بلکہ تھوڑی سی پیچیدگی اور گھنگریالہ پن تھا نیز آپ ﷺ گندمی رنگ تھے جب حضور ﷺ راستہ چلتے تو آگے کو جھکے ہوئے چلتے