حضور نبی کریم ﷺ کے ہم جنس پرستی کے متعلق ارشادات

۱۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والی حرکت کرے،ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والی حرکت کرے،ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا کام کرے۔
(ترغیب و ترہیب ص۲۲۷)

۲۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ خطر ہ کی بات جس کے بارے میں اپنی امت کے متعلق ڈرتا ہوں قوم لوط کا عمل ہے( کہ یہ لواطت میں مبتلا ہو کرخدا کے سخت ترین عذاب میں نہ مبتلا ہو جائیں)۔
(شعب الایمان ۴/۳۵۴)

۳۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص کوتم قوم لوط والا عمل کرتے ہوئے پاؤ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔
(ابو داؤد ج۲ص۲۶۵ ابن ماجہ ص۱۸۴)

۴۔طبرانی بیھقی نے ابو ہریرہؓ سے نقل کیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا چار قسم کے لوگ ہیں جو صبح کرتے ہیں اﷲ تعالی کے غضب میں اور شام کرتے ہیں اﷲ تعالی کی ناراضگی میں حضرت ابو ہریرہؓ نے پوچھا اے اﷲ کے رسول ﷺ وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔
۱۔وہ مرد جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں۲۔وہ عورتیں جو مردوں کی مشابہت کرتی ہیں۳۔وہ شخص جو جانور کے ساتھ بد فعلی کرے۴۔وہ جو مردوں کے ساتھ برا کام کرے۔
(رواہ البیہقی والطبرانی،ترغیب و ترھیب ج۳ ص۲۲۸)

۵۔ حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں آنحضرت ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا آپ ؐ نے اس خطبہ میں فرمایا جو شخص کسی عورت یا کسی لڑکے یا کسی آدمی کی جائے پاخانہ میں برائی کرے گا وہ قیامت کے دن سڑے ہوئے مردار سے زیادہ بدبودار اٹھایا جائے گا جس سے تمام لوگ پریشان ہو جائیں گے ۔حتی کہ اس کو اللہ تعالی دوزخ کی آگ میں داخل کر دیں گے اللہ تعالیٰ اس کے نیک اعمال کو ضائع کر دیں گے اور اس کواس سے معاوضہ نہ ملے گا بلکہ اس کو آگ کے ایک تابوت میں بند کر دیا جائے گا اور آگ کے لوہے کی اس پرمیخیں ٹھونک دی جائیں گی
(مسند حارث بن ابی اسامہ)

۶۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی طرف نہ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دیکھے گا نہ ان کو پاک کرے گا اورنہ ان کو باقی لوگوں کے ساتھ جمع کرے گا وہ دوزخ میں سب سے پہلے داخل ہوں گے ہاں اگر انہوں نے توبہ کر لی تو جو توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں۔
۱۔مشت زنی کرنیوالا۔ ۲
۔فاعل (مردسے بدفعلی کرنے والا) ۳
۔مفعول (بد فعلی کروانے والا)
۴۔شراب کا عادی ۵
۔والدین کو پیٹنے والا یہاں تک کہ وہ فریاد کرنے لگیں۔ ۶
۔اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچانے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت کرنے لگیں۔ ۷
۔پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے و الا۔
(تفسیرابن کثیر ص۳۸۳ج ۳)

۷۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں رسو ل اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی میری امت میں قوم لوط والا گنا ہ کرتا تھا اوروہ ( بغیرتوبہ کے)مرجاتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کو قوم لوط میں منتقل کر دیتے ہیں اور قیامت کے دن بھی انہی کے ساتھ کھڑا کریں گے۔
۸۔
حضرت عبد اللہؓ بن عمر ارشاد فرماتے ہیں قیامت کے دن لوطیوں کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں کھڑا کیا جائے گا۔

۹۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سات قسم کے گناہ گاروں پر ساتوں آسمانوں کے فرشتے لعنت کرتے ہیں اور لعنت بھی اس کثرت سے ہوتی ہے کہ ملعون کو تباہ کرنے کے لئے کافی ہو جاتی ہے۔
ا۔ قوم لوط کا عمل کرنے والا ملعون ہے
(یہ تین بار فرمایا)
۲۔جو شخص غیر اللہ کے نام پرذبح کرے
۳۔جو کسی جانور سے وطی کرے ملعون ہے۔
۴۔جس نے بیوی اور اس کی ماں یعنی ساس کو جمع کیا ملعون ہے (نکاح میںیا زنا میں) ۵۔جس نے زمین کی حدود علامات کو بدل دیا ملعون ہے
۶۔ جس غلام نے اپنے آپ کو غیروں کی طرف منسوب کیا ملعون ہے۔
۷۔ماں باپ کا نافرمان ملعون ہے۔(طبرانی ،بیہقی وغیرہ)
۱۰۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگوں کا قیامت کے دن ایمان (کامل) قبول نہیں کیا جائے گا۔
ا۔ فاعل مرد اور مفعول مرد
۲۔فاعلہ عورت اور مفعولہ عورت
۳۔ظالم بادشاہ (زواجر،ص۲۳۵ج۲)
۱۱۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوْط ترجمہ۔ اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس شخص پر جس نے قوم لوط والا عمل کی۔ (رواہ النسائی۔زواج،ص۲۲۹ج۲)۔
۱۲۔حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میری امت میں پانچ باتیں شروع ہو جائیں گی تو یہ تباہ کر دی جائیگی
۱۔آپس میں ایک دوسرے پر لعنت کرنا۲۔شراب کا بکثرت پینا۳۔ریشمی کپڑوں کا پہننا۴۔گانے والیوں کی کثرت اور انکا اجتماع
۵۔مردوں کا مردوں سے اور عورتوں کا عورتوں سے اپنی خواہش پوری کرنا(بیہقی)
لواطت سے پید اہونے والی بیماریاں
جو لڑکے یہ برائی کرواتے ہیں ان میں سے بعض کو یہ عادت اس بری طرح پڑ جاتی ہے کہ وہ اس کے بغیر چین سکون نہیں پا سکتے اور خود ان کی طبیعت اس کے لئے پریشان رہتی ہے اور اس فعل کے کرنے والے کی تلاش میں رہتے ہیں ۔الغرض اس برے کام کا نتیجہ ہر حالت میں برا ہی نکلتا ہے اس لئے اس بری عادت کو کبھی ارادہ کبھی اخلاق و مذہب کی رہنمائی میں ترک کر دینا چاہیے اس برائی کی وجہ سے انسان بعض پیچیدہ قسم کے امراض کا شکار ہو جاتا ہے ۔تخم انسانی کا ستیا ناس ہو جاتا ہے اور اس کام کے کرنے والا اولا دنرینہ سے محروم رہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے