حضرت داؤد علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو وصیت

حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ شیر اور چیتے کے عقب میں جانا لیکن عورتوں کے پیچھے نہ جانا(یعنی شیر اور چیتے جیسے درندے کے قریب جانا آدمی کے لئے اتنا مہلک اور خطر ناک نہیں جتنا عورتوں کے پیچھے جانا ہے ۔کیونکہ اس میں جان اور ایمان دونوں کے ضائع ہو نے کا خطرہ ہے)۔(کیمیائے سعادت)
گناہوں سے بچنے کے فضائل
قرآن مجید میں ارشاد ہے ۔

بِسْمِ اﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَاOوَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰھَاOوَالنَّھَارِ اِذَا جَلّٰھَاO وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰھَاOوَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰھَاOوَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰھَاO وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَاOفَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَاOقَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَاO

(الشمس ۱تا۹)
ترجمہ۔قسم ہے سورج کی اور ا سکے دھوپ چڑھنے کی۔اور چاند کی جب آئے سورج کے پیچھے۔اوردن کی جب اس کو روشن کرلے۔ اور رات کی جب اس کو ڈھانک لیوے۔۔ا ور آسمان کی ا ور جیسا کہ اس کو بنایا۔ا ور زمین کی اور جیسا کہ اس کو پھیلایا۔اور جی کی اور جیسا کہ اس کو ٹھیک بنایا۔پھر سمجھ دی اس کو ڈھٹائی کی ا ور بچ کر چلنے کی۔تحقیق مراد کو پہنچا جس نے اس کو (نفس کو)سنوار لیا۔
تشریح۔اس سورہ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لئے جس نے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کا تابعدار بنایا اور برائیوں سے محفوظ رکھا اس کے لئے سات قسمیں اٹھا کر ارشاد فرمایا کہ ایسا شخص دنیا و آخرت میں کامیاب ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اسے حاصل ہو گی اور وہ جنت میں یقیناًپہنچ گیا جبکہ اسکے مد مقابل جس آدمی نے نفس کی باگ ڈور شہوت اور غضب کے ہاتھ میں دے دی اور عقل اور شریعت سے کچھ سروکار نہ رکھا اس کے متعلق فرمایا.

وَقَدْخَابَ مَنْ دَسّٰہَاO

ترجمہ۔اور نا مراد ہوا جس نے اس کو (نفس کو) خاک میں ملا چھوڑا۔
نفسانی خواہشات سے رکنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کی خوشخبری
قرآن مجید میں ارشاد ہے ۔وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوَی

Oفَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْوٰیO

(النزاعت ۴۱)
ترجمہ۔اور جو کوئی ڈر ا ہو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے اور روکا ہو اس نے جی کو خواہش سے۔ سو بہشت ہی ہے اس کا ٹھکانہ۔
تشریح:۔ یعنی جو اس بات کا خیال کرکے ڈرا کہ مجھے ایک روز اللہ کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے اور اسی ڈر سے اپنے نفس کی خواہش پر نہ چلا بلکہ اسے روک کر اپنے قابو میں رکھا اور احکام الٰہی کا تابع بنایا تواس کا ٹھکانا بہشت کے سوا کہیں نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے