تکیہ کے علاوہ کسی اور چیز پر ٹیک لگانا

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ناساز تھی اس لئے حجرہ شریف سے حضرت اسامہ پر سہارا کئے ہوئے تشریف لائے اور صحابہ کو نماز پڑھائی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک یمنی منقش چادر لئے ہوئے تھے۔

“فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات کی حالت میں حاضر ہوا، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر اس وقت زرد پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میں نے سلام کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب کے بعد ارشاد فرمایا کہ اے فضل اس پٹی سے میرے سر کو خوب زور سے باندھ دو ۔ پس میں نے تعمیل ارشاد کی۔ پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور میرے مونڈھے پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور مسجد کو تشریف لے گئے۔ اس حدیث میں ایک مفصل قصہ ہے”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے