تکیہ کا ذکر

جابر بن سمرة رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا جو بائیں جانب رکھا ہوا تھا۔

ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کو کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ بتاؤں صحابہ نے عرض کیا کہ ضرور یا رسول اللہ ارشاد فرمائیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جل جلالہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات کرنا (راوی کو شک ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی بات فرمائی تھی) اس وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف فرما تھے اور جھوٹ کا ذکر فرماتے وقت اہتمام کی وجہ سے بیٹھ گئے اور بار بار ارشاد فرماتے رہے حتی کہ ہم لوگ یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش اب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرمائیں بار بار ارشاد نہ فرمائیں ۔

ابو جحیفة رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تو ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔

جابر بن سمرة رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے