توبہ کی فضیلت کے متعلق ایک واقعہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے ایک شخص تھا اس نے ننانوے قتل کئے تھے اس نے توبہ کے لئے کسی بڑے عالم کا پوچھا تو اس کو ایک راہب کا پتہ بتا دیا گیا تو وہ اس کے پاس گیا اور جا کر کہا کہ میں نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کا رستہ ہے؟ اس نے کہا نہیں تو اس نے اس کو بھی قتل کر دیا اب سو قتل مکمل ہو گئے۔پھر کسی اور بڑے عالم کا پوچھ کر اس کے پاس جا کر کہا کہ حضرت میں نے سو قتل کئے ہیں کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟انہوں نے کہا ہاں! پھر کہا تو یہاں سے نیکوں کی جگہ کی طرف چلا جا وہاں لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو بھی جا کر ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کر اور اپنی بری زمین کی طرف واپس نہ آنا وہ چل پڑا جب نصف راستہ پرپہنچا تو موت آ گئی اس وقت رحمت اور عذاب دونوں قسم کے فرشتے لینے آ گئے اور فرشتوں میں جھگڑا ہو گیا۔رحمت والوں نے کہا کہ یہ تائب ہو کر اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ کر آ رہا تھا اس لئے ہم اس کی روح لے جائیں گے۔عذاب والے فرشتوں نے کہا اس نے کوئی نیک عمل نہیں کیا اس لئے ہم اس کی روح لے جائیں گے۔اتنے میں انسانی شکل میں ایک فرشتہ ان کے پاس آیا اور کہا کہ دونوں زمینوں (بری زمین جہاں سے چلا تھا اور اچھی زمین جہاں جا رہا تھا) کوناپو ۔یہ جس کے قریب ہو گا اس کے مطابق والے فرشتے اس کی روح لے جائیں گے تو فرشتوں نے زمین کو ناپا (دوسری روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے نیکوں والی زمین کو کہا کہ تو قریب ہو جا اور بری زمین کو کہا کہ تو دور ہو جا) تو نیکوں والی زمین کے قریب نکلا تو رحمت والے فرشتے اس کی روح لے گئے ۔ (رواہ البخاری و مسلم)
اس واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنیو الے کو کتنا پسند کرتے ہیں بشرطیکہ توبہ سچے دل سے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی بہت قدر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ مغفرت والے اور رحیم و کریم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے