تقریظ(حضرت مولانا زاہدالراشدی مدظلہ العالی)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔
فحاشی اور معاشرتی بے راہ روی کا سیلاب جس طرح پوری سو سائٹی کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور اس کی تباہ کاریوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اس کے سد باب کے لیئے سنجیدہ توجہ اور محنت کی ضرورت ہے اور دین کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے اصحاب کو اس کی اہمیت اور سنگینی کا احساس کرنا چا ہیے اس سیلاب کی ہلاکت خیزی کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ فحاشی کا مفہوم بھی اب بہت سے لو گوں کی نظروں سے اوجھل ہو رہا ہے اور عدالت عظمیٰ تک میں یہ بحث ہونے لگی ہے فحاشی کی تعریف کیا ہے؟اور اس کا اطلاق کون کون سے امور پر ہوتا ہے؟
ابلاغ اور تعلیم کے بیشتر ذرائع فحاشی کے فروغ کے لئے استعمال ہو رہے ہیں اور حیا ، پاکدامنی اور عفت کے ناگزیر تقاضے نظروں سے اوجھل ہوتے جا رہے ہیں حا لانکہ قرآن کریم نے فحاشی کے فروغ کو عذاب الیم کا باعث قرار دیا ہے اور جناب نبی اکرم ﷺ نے توحید ،صلوٰۃ،زکوۃ،صلہ رحمی اور عفاف(پاکدامنی) کو اسلام کی بنیادی تعلیمات میں بیان فرمایا ہے۔
ان حا لات میں جناب حذیفہ چنیوٹی اور ان کے رفقاء نے فحاشی کی روک تھام اور عفاف کے فروغ کے لیے جس کام کا آغاز کیا ہے وہ لائق تحسین ہے اور نہ صرف یہ کہ ان نوجوانوں کی اس معاملہ میں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے بلکہ اس کام کو ملک کے مختلف شہروں میں شروع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اس کتابچہ میں اس مشن اور جدو جہد کے حوالہ سے ضروری اسلامی تعلیمات کا احاطہ کیا گیا ہے میری دعا ہے کہ اﷲ رب العزت ان نوجوانوں کی محنت کو بار آور فرمائیں اور دنیا اور آخرت میں قبولیت سے نوازیں آمین یا رب العٰلمین۔
ابو عمار زاہدالراشدی خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
(۲۴ دسمبر ۲۰۱۲ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے