تفریحات میں شدید انہماک

ٹی وی خریدتے وقت ہر شخص یہی سوچتا ہے کہ وہ بس کبھی کبھار شغل کر لیا کرے گا اور زیادہ وقت ضائع نہیں کرے

گا مگر پھر ایک ڈرامہ پھر دوسرا ڈرامہ اور پھر مسلسل سیریز رفتہ رفتہ اسے روزانہ ایک مخصوص وقت برباد کرنے کی عادت ڈال دیتی ہے اور پھر جب وقت کی قدرو قیمت گر جاتی ہے تو ٹی وی دیکھنے کی لت اسے اپنے تمام مشاغل اور دنیا کے کاموں کو ٹی وی کے تابع کر دینے پر مجبور کر دیتی ہے ۔حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے اگر کوئی رشہ دار ملنے والا کسی ڈرامہ یا سیریز کے دوران آ جائے تو طبیعت پر گراں گزرتا ہے ۔بعض اوقات اس سے ٹھیک طرح سے بات بھی نہیں کی جاتی اور کبھی کبھی تو تمام اسلامی آداب اور فرائض میز بانی بھی نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ٹی وی پروگراموں اور فلموں کی وجہ سے آخرت اور دین سے جو غفلت اختیارکی جاتی ہے وہ تو بے حد و حساب ہے وہ تمام لوگ جو مساجد میں اہتمام سے نماز پڑھتے ہیں خوب جانتے ہیں کہ جس وقت کوئی ڈرامہ آتا ہے یا کوئی سیریز چل رہی ہوتی ہے تو بالعموم اس وقت کی نمازمیں لوگوں کی حاضری کم ہو جاتی ہے ۔اچھے اچھے لوگ ان ڈراموں کی وجہ سے باجماعت نماز سے محروم رہ جاتے ہیں۔سینما میں جو فلموں کے اوقات ہوتے ہیں ان میں بھی لازماً ایک آدھ نماز قضا کر دی جاتی ہے اور جس وقت ڈرامہ دیکھا جاتا ہے اس وقت تو گویا نماز فرض ہی نہیں رہتی اور یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ملک کی آئندہ تمام تر ذمہ داریاں سنبھالنے والی معصوم نسل کو ہمارے ٹی وی نے ہاکی کرکٹ کے کس قدر بد ترین فوبیا کا شکار کر دیا ہے۔جب کوئی انٹرنیشنلمیچ براہ راست ٹیلی کاسٹ ہو رہا ہو تو سکولوں سے بچے غائب ہونا شروع ہو جاتے ہیں کیا استاد ،کیا شاگرد،کیا ملازم، کیا افسر سب ہی کی توجہ کھیل کی طرف لگی رہتی ہے اور پھر یہی نہیں ہزاروں افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس لغو مشغلہ کی خاطر جمعہ کی نمازیں بھی چھوڑ دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے