بے حیا ئی میں مبتلاشخص کا ایمان خطرے میں ہے

۱۔ حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے

اِنَّ الحَیَاءَ وَالْاِیْمَانَ قُرَنَاءُ جَمِیْعاً فاِذَا رُفِعَ اَحَدُھُمَا رُفِعَ الاٰ خَرُ۔

(بھقی فی شعب الایمان ۶/۱۴۰،حدیث۷۷۲۷، مشکوۃ شریف۲/۴۳۲)
ترجمہ.حیا اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے ملے ہو ؤہیں ان میں سے کوئ ایک بھی اٹھ جا أ تو دوسرا خود بخود اٹھ جاتا ہے۔
۲۔
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے

اَلْحَیاَءُ مِنَ الْاِیْمَانِ وَالْاِیْمَانُ فِیْ الْجَنَّۃِ وَالْبَذَآءُ مِنَ الْجَفَا ءِ وَالْجَفَاءُ فِیْ النَّارِ۔

(ترمذی شریف۲/۲۱، مشکوۃ شریف۲/۴۳۱)

ترجمہ۔حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان (یعنی ایمان والے ) جنت میں ہیں۔ اور بے حیائ بدی میں سے ہے اور بدی (والے )جہنمی ہیں۔
اگر آج ہم امت مسلمہ کے حالات پر غور کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہر طرف بے حیائی،بدکاری کا رجحان بڑی رفتار سے بڑھ رہا ہے فحاشی و عریانی کی آگ پورے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔اور مسلمان اپنے آپ کو دوزخ کا ایندھن بنانے میں مصروف ہیں۔امت کی نوجوان نسل جو کہ ہمارا سرمایہ ہے وہ لواطت ،زنا ،گانے باجے اور حیا سوز فلموں کی گندگی سے آلودہ ہو کر ایمان کی دولت لٹوا رہے ہیں۔جبکہ ایسے اعمال بدکا انجام اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دنیا کی ذلت اور آخرت میں ناکامی اور درد ناک عذاب کے سوا کچھ بھی نہیں۔ کفار جو کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق شیطان کے دست و بازو اور ساتھی ہیں اور صدیوں سے اہل اسلام کو ختم کرنے کی کوشش میں ہیں مگر مسلمانوں کی ایمانی قوت کی وجہ سے ان پر غلبہ نہ پا سکے۔مغرب کی ان اسلام دشمن ،شیطانی طاقتوں نے اپنی حکمت عملی بدلی اور مسلمانوں کو ایمانی طاقت سے محروم کرنے کیلئے مختلف طریقوں سے بے حیائی پھیلانے کا جال بچھایا۔جس میں کبھی تو فیشن کے نام پر عورتوں کو بے پردہ کیا اور کبھی مخلوط نظام تعلیم کے ذریعے ایمان پر حملہ آور ہوئے۔کبھی TV جیسی لعنت کا تحفہ دیا۔جس میں تفریح کے نام پر ماں،باپ و اولاد اور بہن،بھائی جیسے مقدس رشتوں کے درمیان حائل شرم و حیا کے پردے کو تار تار کیا جا رہا ہے۔لہذا س وقت کا یہ انتہائی اہم تقاضا ہے کہ ہم ان تمام اسباب کی حقیقت کو جانیں اور ان کے دنیاوی و اخروی نقصانات سے آگاہی حاصل کریں جن کے ذریعے شرم و حیا ختم ہو رہاہے۔
گمراہی کے بنیادی اسباب ۱
۔ میڈیا ۲
۔ بری صحبت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے