بولے جانے والے چند کفریہ کلمات

۱۔ جیسے کوئی مصیبت کے وقت کہے “اللہ نے پتہ نہیں مصیبتوں کے لیے ہمارا گھر ہی کیوں دیکھ لیا ہے”
۲۔ یا موت کے وقت کوئی کہہ دے ” پتہ نہیں اللہ کو اس شخص کی بڑی ضرورت تھی جو اس کو چھوٹی عمر میں بلا لیا”
۳۔ نیک لوگوں کو اللہ جلدی اٹھا لیتا ہے کیونکہ اللہ کو ان کر ضرورت ہوتی ہے
۴۔ یااللہ تجھے بچوں پر ترس نہیں آتا
۵۔ اللہ ہم نے تیرا کیا بگاڑا ہے جو ملک الموت کو ہمارے گھر کے پیچھے کیوں لگا دیا ہے
۶۔ اچھا ہے جہنم میں جائیں گے فلمی اداکارئیں بھی تو وہی ہو گیں مزا آ جائے گا
۷۔ اکثر لوگ فیس بک پر اس قسم کے لطائف لکھتے ہیں ” اگر تم لوگ جنت میں چلے گئے تو سگریٹ جلانے کے لیے تو ہمارے پاس دوزخ میں آنا پڑے گا”
۸۔ آو ظہر کی نماز پڑھیں دوسرے نے مذاق میں کہا یار آج تو چھٹی کا دن ہے نماز کی بھی چھٹی ہے
۹۔ کسی نے مذاق میں کہا بس جی چاہتا ہے یہودی عیسائی یا قادیانی بن جاوں ویزا تو آسانی سے مل جائے گا
۱۰۔ صبح صبح مانگ لیا کرو اس وقت اللہ فارغ ہوتا ہے
۱۱۔ اتنی نیکیاں نہ کرو کہ اللہ کی جزا کم پڑ جائے
۱۲۔ خدا نے تمہارے بال بڑی فرصت سے بنائے ہیں
۱۳۔ زید نے کہا یار ہو سکتا ہے آج بارش ہو جائےبکر نے کہا نہیں یار اللہ تو ہمیں بھول گیا ہے
۱۴۔ کسی نے نبی اکرم ﷺ کا مذاق اڑایا تو کافر ہے
۱۵۔ دنیا بنانے والے تیرے من میں کیا سمائی تو نے دنیا کیوں بنائی [گانا]
۱۶۔ حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے خدا بھی نہ جانے تو میں کیا جاتوں [گانا]
۱۷۔ میری نگاہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں۔ قسم خدا کی خدابن کے آپ رہتےہیں [گانا]
۱۸۔ نماز کی دعوت دینے پر کسی نے کہا ہم نے کونسے گناہ کیے ہیں جو بخشوانے ہیں
۱۹۔ ایک نے طبیعت پوچھی تو دوسرے نے ازراہ مذاق کہا نصر من اللہ و ٹھیک کہنے والے پر حکم کفر ہے کیونکہ آیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی
۲۰۔ رحمن کے گھر شیطان اور شیطان کے گھر رحمان پیدا ہوتا ہے
۲۱۔ مسلمان بن کر امتحان میں پڑ گیا ہوں

رحمت للعالمین ﷺ کا ارشاد ہے ان فتنوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے ایک آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو گا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہو گا نیز اپنے دین کو دنیاوی سازوسامان کے بدلے فروخت کر دے گا [مسلم حدیث 118 ص 73]