بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کا قصہ

بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کا ذکر علما کرام بیان کرتے ہیں۔ جب فصل کٹ کر گھر آئی تو دونوں نے اس کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر لیا۔ اب فصل کو اپنے اپنے گھر لے جانا تھا اور لے جانے کے لیے برتن ایک ہی تھا۔ دونوں میں طے ہوا ایک پھیرا بڑا بھائی لے جائے گا اور ایک چھوٹا۔ جب بڑا بھائی چھوڑنے گیا تو چھوٹے بھائی نے خیال کیا کہ میرا بڑا بھائی ہے محنت بھی زیادہ کرتاہے اور اسکے کھانے والے بھی زیادہ ہیں اس نے اپنے حصے میں غلہ بھائی کے ڈھیر میں ملا دیا۔ اب چھوٹے بھائی کی باری تھی۔  جب وہ اپنا حصہ چھوڑنے گیا تو تو بڑے نے سوچا میرا چھوٹا بھائی ہے اس کے دل میں یہ خیال نہ آئے بڑے نے ناانصافی کی ہے تو اس نے اپنے حصہ میں سے اس کے ڈھیر میں ملا دیا۔اس طرح دونوں ہر پھیرے میں کرتے رہےتھے اللہ کریم نے ان کے مال میں ایسی برکت ڈال دی دونوں کے گھر بھر گئے اور ڈھیر ویسے پڑے تھے۔