بد کاریوں کے سبب پیدا ہونے والی خطرناک بیماریاں

جو بھی انسان فطرت کے قانون توڑتا ہے اسے ا سکی سزا ضرور بھگتنا پڑتی ہے ۔قرآن مجید کی آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو فطرت سلیمہ پر پید اکیا ہے مگر جو لوگ اس پاکیزہ فطرت کے برعکس زندگی گزارتے ہیں اور اپنی خواہشات کو تسکین پہچانے کے لئے جانوروں سے بدتر مخلوق کی شکل اختیار کرتے ہیں تو قدرت ان کو دنیا ہی میں ایسی عبرتناک سزائیں دیتی ہے جن کے تصورسے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایسے بد بخت لوگ جب گندی زندگی کے انجام کو پہنچتے ہیں تو وہ اپنی ایسی بری زندگی پر موت کو ترجیح دینے لگتے ہیں اور معاشرے میں چلتی پھرتی لاش کی صورت اختیار کر لیتے ہیں ۔ذیل میں ہم ان چند خطرناک بیماریوں کا ذکر کرتے ہیں جو کہ ایک بدکردار انسان کو اس کے اعمال کے صلہ میں اس کی زندگی کا روگ بن جاتی ہیں۔
ا۔آتشک:۔اس بیماری کا دوسرا نام باد فرنگ ہے اور انگریزی میں اس طرح کی تمام بیماریوں کو “Veneral Diseases”کہتے ہیں۔اس مرض کا سبب بدکار عورتوں کی صحبت ہے بیماری کچھ اس قسم کی ہوتی ہے کہ شرم گاہ پر ایک پھوڑا نکل آتا ہے جو کہ بعد میں زخم بن جاتا ہے اور زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔حتی کہ نسل در نسل چلتا ہے ایک شخص کی بدکرداری اس کی آگے آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض کاتحفہ دے جاتی ہے حالانکہ وہ بے چارے بے قصور ہو تے ہیں۔اور کبھی کبھی یہ زخم جسم کے دوسرے حصے پر بھی بن جاتے ہیں۔
۲۔سوزاک:۔اس مرض کی علامات یہ ہیں کہ پیشاب کی نالی میں ورم ہو جاتا ہے اور پیپ بہنا شروع ہو جاتی ہے پیشاب کرتے وقت درد ہوتا ہے کچھ عرصہ بعد درد کا آرام آجاتا ہے لیکن پیپ جاری رہتی ہے۔یہ صفوی مرض ہے عورتوں سے مردوں اور مردوں سے عورتوں کو لگتا ہے
جاتا ہے لیکن مرض مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا اور مختلف طریقوں سے جسم کے دوسرے حصوں کا متاثر کرتا رہتا ہے۔بدکار مرد اور عورتیں کثرت سے ان امراض کا شکار ہوتے ہیں۔حیض کے دنوں میں عورت کے قریب جانے سے بھی یہ بیماری پیدا ہو سکتی ہے۔اسی وجہ سے حیض کے دوران عورت کے قریب جانے سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔
۳۔ ایڈز:۔جنسی برائیوں سے پید اہونے والے امراض میں سے جدید اور موذی ترین مرض ایڈز ہے، یہ بیماری مغرب کی آزاد شہوت رانی کے طرز عمل نے پیدا کی ہے اور پھر پوری دنیااس کی لپیٹ میں آ گئی ہے جنسی بے راہ روی کے نتیجے میں دنیا کے لاکھوں لوگ اس موذی مرض کے ہاتھوں لقمہ موت بن رہے ہیں۔اور اب توا س بیماری سے بچے بھی محفوظ نہیں رہے۔انسان کے خون سے قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے۔پھیپھڑے متاثر ہو جاتے ہیں،دماغ پر اثرات پڑنے سے انسان چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا۔بالآخر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس کا وائرس منہ کے تھوک میں ہوتا ہے اس لئے سخت احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے۔محکمہ صحت اس کے متعلق لٹریچر شائع کرتا رہتا ہے۔اس کا مطالعہ کرکے حفاظتی اقدامات کئے جانے چاہئیں یہ بیماری میاں بیوی ،والدین اور بچوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے اس بارے میں ایک مسلمان آئی۔ جی ہیوٹ لکھتا ہے۔ کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق بعض اوقات انفرادی مفاد کو اجتماعی مفاد پر قربان کرنا پڑتا ہے اس لئے اسلام نے مجموعی بھلائی کی خاطر افراد کو آزاد شہوت رانی کی اجازت نہیں دی اس مرض سے بچنے کا واحد طریقہ پاکیزہ زندگی گزارنا ہے۔
۴۔جریان:۔جنسی خیالات کے باعث مثانہ کے غدود سے چمکدار اور بے رنگ رطوبت نکلنا شروع ہو جاتی ہے جو چکناہٹ پیدا کرتی ہے حقیقت میں یہ کوئی بیماری نہیں اس کی کثرت بیماری بن جاتی ہے جسے جریان یا مذی کہا جاتا ہے۔بعض اوقات پیشاب کیساتھ مادہ منویہ کے قطروں کا بھی اخراج ہوتا ہے۔
۵۔احتلام:۔رات کو سوتے وقت ناپاک ہو جانے کا نام احتلام ہے یہ بھی ایک حد کے اندر ہو تو انسان صحت مند ہے ورنہ بیماری۔ان امراض کے اسباب میں سے مشت زنی،لواطت ،جنسی خیالات،جنسی مناظر ،فحش اور گھٹیا لٹریچر کا مطالعہ فحش گانے یا زیادہ گرم اشیاء کا استعمال ہوتا ہے ۔شروع میں خوش کن خوابوں سے لطف اٹھانے کے باعث انزال ہو جاتا ہے لیکن مرض بڑھ جائے تو رات بھر میں ایک سے زائد مرتبہ انزال بھی ہو سکتا ہے ۔یہ بیماریاں نشہ آور اشیاء مثلاً افیون ،چرس وغیرہ کے استعمال سے بھی پید اہوجاتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر
۱۔ برائیوں سے توبہ کی جائے۔
۲۔پانچ وقت نماز کی پابندی کی جائے۔
۳۔گندے خیالات سے بچا جائے۔
۴۔صبح جلدی اٹھنے کو عادت بنایا جائے۔
۵۔رات کو سونے سے پہلے دودھ یا پانی نہ پیا جائے۔
۶۔سونے سے پہلے پیشاب وغیرہ سے فارغ ہو لیا جائے۔
۷۔سنت کے مطابق پہلے چند منٹ داہنی کروٹ اور پھر چند منٹ بائیں کروٹ لیٹا جائے۔
۸۔عشقیہ قصے،ناول ہرگز نہ پڑھے جائیں۔ اسی طرح گانوں اور فلموں وغیرہ سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔
۹۔ صبح کی سیر کو عادت بنایا جائے ۔اس سے بہت سی امراض سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔
ایک عمدہ ورزش:۔ ہندو یوگیوں نے ان امراض سے بچنے کے لئے ایک ورزش دریافت کی تھی جس کے کرنے سے بغیر ادویات آدمی یقیناًتندرست

ہو جاتا ہے۔
طریقہ:۔عمدہ صاف اور ہوا دار جگہ پرصبح و شام کے وقت زمین پرنرم گدا رکھ کر اس پر سر رکھ کر الٹا کھڑے ہو جائیں اگر بغیر سہارے کے کھڑے نہیں ہو سکتے تو دیوار کے سہارے الٹے کھڑے رہیں پہلے روز صرف ایک آدھ منٹ کھڑے رہیں اور پھر آہستہ آہستہ وقت بڑھائیں یہاں تک کہ پندرہ بیس منٹ تک پہنچ جائیں اس کے بعد جب تک چاہیں جاری رکھیں ۔جریان و احتلام کا نام بھی باقی نہ رہے گا۔جسم میں چستی آ جائے گی۔آدمی چاق و چوبند ہو جائے گا۔چہرے پرخون چمکنے لگے گا اور بدن میں فربہی آ جائے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے