بد نظری کے گناہ کا کثرت سے ارتکاب

ڈرامے اور فلم بینی میں بد نظری کا بڑا شدید ارتکاب ہوتا ہے جس سے سنگین جرائم جنم لیتے ہیں نیز کبیرہ گناہوں کا بنیادی سبب بد نظری ہے۔آنکھوں کی بے احتیاطی انسان کو بڑے بڑے سنگین گناہوں میں مبتلا کر دیتی ہے یہی وہ ذریعہ ہے جو بدکاری کے جذبے کو بھڑکاتا ہے آنکھوں کے غلط استعمال کا بد ترین درجہ بلو فلمیں ہیں جنہوں نے نوجوان نسل کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ہے جانوروں سے بد ترین بظاہر انسان نما مخلوق کے حیا سوز مناظر دیکھنے والے پر درندگی کا وہ جنون سوار ہو جاتا ہے کہ جب تک وہ کسی کی عزت کو برباد نہ کر دے اس کے شیطانی جذبے کو سکون حاصل نہیں ہوتاآج کل معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے اکثر واقعات کی وجہ بھی یہی غلیظ فلمیں ہیں دین اسلام نے معاشرے میں پاکیزگی اور جنسی نظم و ضبط پید اکرنے کے لئے مکمل تعلیمات دی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

قُلِ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ ط ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ط اِنَّ اللَّہَ خَبِیْرٌم بِمَا یَصْنَعُونَ Oوَقُلِ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ

۔ (النور ۳۰۔۳۱)
ترجمہ۔ مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے حق میں زیادہ پاکیزگی کی بات ہے بے شک اللہ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کرتے ہیں اور آپ ایمان والی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔

تشریح:۔ ان آیات میں واضح طور پر ارشاد ہے کہ جو شخص بھی اللہ پر ایمان رکھتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت اپنی نظروں کی حفاظت کا اہتمام رکھتا ہے اور اس کے لئے کسی بھی طرح حلال نہیں کہ خواہ مخواہ نا محرموں کو دیکھتا پھرے۔یہاں یہ بات بھی خوب سمجھ لینا چاہئے۔کہ عام طور پر قرآنی آیات کا اسلوب یہ ہے کہ مردوں کو خطاب کیا جاتا ہے اور عورتوں کو ضمناً اس میں شامل کر لیا جاتا ہے مگر حفاظت نظر کے سلسلے میں قرآن کریم نے واضح طور پر علیحدہ علیحدہ دونوں کو حکم دیا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔
وہ لوگ جو ٹی وی ڈراموں اور فلم بینی کے نشہ میں مبتلا ہیں اس بات پر غور کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان مقدس احکامات کو کس بری طرح پامال کر رہے ہیں اور ان کی زندگی قرآنی تعلیمات سے کتنی بر عکس گزر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔

یَعْلَمُ خَآ ءِنَۃَ الْاَ عْیُنِ وَمَا تُخْفِیْ الصُّدُوْرُO

(المؤمن ۱۹)
ترجمہ۔وہ جانتا ہے چوری کی نگاہ،اور جو کچھ چھپا ہوا ہے سینوں میں۔
تشریح:۔یعنی جو لوگ نظروں کی خیانت کرتے ہیں اور ان سے حرام کا ارتکاب کرتے ہیں خواہ وہ اپنے اس گناہ کو مخلوق سے چھپا کر بھی کریں تو اللہ تعالیٰ تو ان کی آنکھوں کی خیانت کو جانتے ہیں اور پھر ان کے دلوں میں جو شہوانی اور شیطانی خیالات آتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتے ہیں لہذا ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اللہ سے شرم کرے اور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے