بدنظری کے گناہ سے توبہ کرے

بد نظری کے متعلق ارشادات نبوی ﷺ

۱۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ ،قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَعْنِیْ عَنْ رَّبِّہِ عَزَّ وَجَلَّ النَّظْرَۃُ سَہْمٌمَّسْمُوْمٌ مِّنْ سِہَامِ اِبْلِیْسَ مَنْ تَرَکَہَا مِنْ مَّخَافَتِیْ اَبْدَلْتُہٗ اِیْمَاناً
یَّجِِدُحَلاَوَتَہٗ فِیْ قَلْبِہ

(رواہ الطبرانی والحاکم من حدیث حذیفہ وقال صحیح الاسناد، الترغیب والترہیب ص ۳۴)

ترجمہ۔ حدیث قدسی کا مفہوم ہے (نامحرم پر) نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے جس شخص نے اس کو میرے خوف سے چھوڑ دیا میں اس کے بدلے میں اس کو وہ ایمان دونگا کہ جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا۔
تشریح:۔ اللہ تعالیٰ نے بد نظری کو شیطان کے زہریلے تیروں میں سے تیر فرمایا ہے جس آدمی کے جسم میں زہریلا تیر پیوست ہو جائے اس کا زہر اس کے سارے جسم میں پھیل جاتا ہے۔اوراس کے دل تک پہنچ کر اس کی موت کا سبب بنتا ہے اسی طرح جس شخص کو بد نظری کی عادت کا زہریلا تیر زخمی کر دے اس کا زہر بھی اس کے اندر سرایت کر جاتا ہے اور جب یہ زہر دل تک پہنچتا ہے تو دل یاد الٰہی سے غافل ہو کر شیطانی خواہشات سے بھر جاتا ہے ایمان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔اور آدمی بدکاری کا راستہ اختیار کرکے دنیا و آخرت برباد کرتا ہے۔

۲۔عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلاً قَالَ بَلَغَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ لَعَنَ اﷲُ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُوْرَ اِلَیْہِ۔

(رواہ البیہقی فی شعب الایمان مشکوۃ شریف ص ۲۷۰)

ترجمہ ۔اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گھورنے و الے مرد پراور جس کوگھوراگیاہے اس پر ۔

۳۔عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ لَتَغُضُّنَّ اَبْصَارَکُمْ وَ لَتَحْفَظُنَّ فُرُوْجَکُمْ اَوْ لَیَکْسِفَنَّ اﷲُ وُجُوْھَکُمْ۔

ترجمہ۔رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا۔ تم ضرو ربالضرور اپنی نگاہوں کو جھکائے رکھو گے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے رہو گے یا پھر اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کومسخ کر دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے