ایک شیطانی جال اور اس کی حقیقت

بعض لوگ جو خوب صور ت لڑکوں اورلڑکیوں کو دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں شیطان نے انکے دل میںیہ دلیل بٹھا رکھی ہوتی ہے کہ ایسے خوبصورت چہروں کو دیکھنے سے اللہ کی قدرت و شان اور اس کی عظمت دل میں آتی ہے اور دھیان ان کو بنانے والے کی طرف جاتا ہے یہ باتیں نہایت ہی نفسانی خواہشات کی بندگی ہے اور عقل کو فریب دینا ہے حالانکہ جن چیزوں سے عبرت حاصل کی جا سکتی ہے وہ قرآن پاک میں مذکور ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ

(الذٰریات:۲۱)
ترجمہ۔(اللہ تعالیٰ کی نشانیاں )خود تمہارے اندر موجود ہیں۔کیا تم کو نظر نہیں آتا۔
تشریح۔پہلے تو ایک قطرہ ناپاک تھا پھر ماں کے رحم میں تجھ کو رکھا پھر وہاں سے دنیا میں لایا تو بچہ تھا ،تجھ کو جوان کیا پھر تجھے مارے گا پھر زندہ کرے گا پھر ہر امر کا حساب لے گا۔ایک اور جگہ ارشاد فرمایا۔

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ O

(الغاشیہ:۱۷)
ترجمہ۔بھلاکیااونٹوں پر نظر نہیں کرتے کہ کیسے بنائے ہیں۔
پھر ارشاد ہوا

۔اَوَلَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ

(الاعراف: ۱۸۵)
ترجمہ۔کیا انہوں نے نظر نہیں کی سلطنت میںآسمان اورزمین کی۔
جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اس کو چھوڑ کر یہ لوگ اس میں پڑ گئے جس سے منع فرمایا یہ سراسر شیطانی جال ہے۔
قرآن پاک میں ا رشاد ہے۔

قُلْ لِّلْمُوْمِنِیْنَ یَغُضُّوْ مِنْ اَبْصَارِھِمْ

(النور،۳۰)
ترجمہ۔(اے رسولؐ) اہل ایمان سے کہہ دیجئے اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔
پس انہی چیزوں کا دیکھنا درست ہے جن کی طرف نفس خواہش نہیں کرتا اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو دیکھنے کا حکم دیا ہے ان میں لذت اور شہوت کاملاؤ نہیں ۔تمام جنسی برائیوں کی ابتدا دیکھنے سے ہی ہوتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے عورت کو پیغمبر نہیں بنایا۔جو شخص یہ کہے کہ میں خوبصورت شکل سے عبرت اور خدا کی شان کی عظمت دل میں بٹھاتا ہوں وہ دراصل نفسانی خواہش کا تابع ہے اوراپنی بات میں جھوٹا ہے اور جو آدمی یہ کہے کہ ہماری طبیعت دوسروں سے الگ ہے ہم پر اثر نہیں ہوتا وہ بھی جھوٹا ہے اور یہ باتیں شریعت کے خلاف ہیں۔
گانا باجا سننا
قرآن پاک میں ارشاد ہے۔

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اﷲِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ق وَّ یَتَّخِذَھَا ھُزَواًط اُوْلٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌO

(لقمان ۶ )
ترجمہ۔ اور ایک وہ لوگ ہیں کہ خریدار ہیں کھیل کی باتوں کے( گانے بجانے کی چیزوں کے) تاکہ بہکائیں اللہ کی راہ سے بن سمجھے اور ٹھہرائیں اس کو ہنسی، وہ جو ہیں ان کو ذلت کا عذاب ہے۔
تشریح:۔ یہ ان بدبختوں کا ذکر ہے جو اپنی جہالت اور ناعاقبت اندیشی سے قرآن کریم کو چھوڑ کر ناچ رنگ کھیل تماشے یا دوسری واہیات و خرافات میں ڈوبے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسروں کو بھی ان ہی مشاغل و تفریحات میں لگا کر اللہ کے دین اور اس کی یاد سے برگشتہ کر دیں اور دین کی باتوں پر خوب ہنسی مذاق اڑائیں۔ حضرت حسنؓ “لہو الحدیث”کے متعلق فرماتے ہیں لہو الحدیث ہر وہ چیز ہے جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو۔مثلاً فضول قصہ گوئی ،ہنسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے