انگوٹھی کا ذکر

حدثنا قیتبتہ بن سعید وغیرواحدعن عبداللّہ بن وھب عن ابن شھاب عن انس بن مالک قال کَانَ خَاتَمُ النَّبِیّ صَلَّی اللّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ مِن وَرَقٍ وَکَانَ فَصُّہ حَبَشِیٍّا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہہ فرماتے هیں کہ حضور اقدس ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اور اس کا نگینہ حبشی تھا

چاندی کی انگوٹھی جمہور کے نزدیک جائز ہے. باقی پیتل، لوہے وغیرہ کی حنفیہ کے نزدیک ناجائز ہے. حضورﷺ  نے ابتداء سے انگوٹھی نھیں بنوائی تھی. مگر جب معلوم ہوا کے سلاطین عجم بغیر مہر کے خطوط کی قدر نہیں کرتے اور تبلیغی خطوط سلاطین کے پاس ارسال شروع فرماے تو سنہ ٦ یا ٧ ہجری میں مہر بنوائی

اِس میں علماء کے اقوال مختلف ہیں کہ انگوٹھی کا حکم کیا ہے۔ بعض علماء نے مطلقاً سنّت فرمایا ہے۔ بعض علماء نے غیر سلطان اور قاضی کے لئے مکروہ بتلایا ہے۔ علماء حنفیہ کی تحقیق شامی کے قول کے موافق یہ ہے کہ بادشاہ قاضی متولی وغیرہ غرض جن کو مُہر کی ضرورت پڑتی ہو اُن کے لئے تو سنّت ہے اور ان کے علاوہ دوسرں کے لئے جائز تو ہے لیکن ترک کرنا افضل ہے۔
اور اس کی وجہ ظاہر ہے کی نبی کریم ﷺ نے بھی اُسی وقت بنوائی جب سلاطین کو خطوط لکھنے کے لئے ضرورت پیش آئی ۔
چنانچہ حدیث میں آ رہا ہے ابوداؤدشریف وغیرہ میں نبی کر یم ﷺ سے بادشاہ کے علاوہ کو انگوٹھی پہننے کی ممانعت بھی آئی ہے مگر چونکہ حضور ﷺ کے سامنے اکثر صحابہؓ سے پہننا بھی ثابت ہے اور حضور ﷺ کی اجازت بھی دوسری احادیث میں آئی ہے اس ممانعت کو اسی خلافِ اولٰی پر حمل کیا ہے۔

حدثنا قیتبتہ حدثنا ابوعوانتہ عن ابی بِشرعن نافع عن ابن عمراَنَّ النَّبِیَّ ﷺ اتَّخَذَ خَاتَماً مِن فِضَّتہٍ فَکَانَ یَختِمُ بِہِ وَلَا یَلبَسُہٌ قال ابو عیسیٰ ابو بشر اسمہ جعفربن ابی وحشیۃ۔

حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی تھی اس سے خطوط وغیرہ پر مُہر فرماتے تھے ۔ پہنتے نہیں تھے۔

 

حضور اقدسﷺ کا انگوٹھی کو پہننا روایاتِ متعددہ سے ثابت ہے اس لئے حضرت ابنِ عُمرؓ کی اس حدیث کی علماء نے چند توجہات فرمائی ہیں ۔ بعض نے یہ توجیہ کی ہے کہ مقصود استمرار ہے کہ ھمیشہ نہیں پہنتے تھے۔ بعض کی رائے ہے کہ حضور ﷺ کی دو انگوٹھیاں تھیں، ایک مُہر والی اس کو مُہر کے کام لاتے تھے اور پہنتے نہیں تھے، دوسری پہننے کے استعمال میں لاتے ۔ ایسے ہی اور بھی مختلف طریق سے جمع کیا گیا ہے لیکن بندہ کے نزدیک اولٰی یہی ہے کہ ہر وقت اس کو نہیں پہنتے تھے۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نماز پڑھ رہے تھے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی تھی نماز میں اُس پر نِگاہ پر گئی تو اس کے بعد سے پہننا چھوڑ دیا تھا۔ احادیث میں ایک منقش کپڑے کے متعلق بھی اس قسم کا واقعہ آتا ہے کہ نماز میں اس پر نِگاہ پڑ گئی تو حضور ﷺ نے اس کو نکال دیاتھا اور اس کے بدلہ میں معمولی کپڑا پہن لیا تھا انگوٹھی چونکہ ضرورت کی چیز تھی اس لئے مطلقاً تو اس کا ترک مشکل تھا اس لئے عام طور پر اس کا پہننا ترک فرما دیا ہو یہ اقرب ہے چنانچہ دوسرے باب کی چھٹی حدیث میں آ رہا ہے کہ اکثر اوقات حضرت معیقیبؓ کے پاس رہتی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے