انسان کا مقصد زندگی

جس طرح ساری مخلوقات انسان کی خدمت میں مصروف ہیں اور تخلیق کے لحاظ سے بھی انسان تمام مخلوقات سے اعلیٰ و ارفع ہے تو یہ بات واضح طور پر سمجھ آتی ہے کہ اس کے پید ا کرنے کا مقصد وہ نہیں ہو سکتا جو دوسری مخلوقات کا ہے بلکہ انسان کی پیدائش کا کوئی عظیم مقصد ہونا ضروری اور لازمی بات ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں

۔ اَ فَحَسِبْتُمْ اَ نَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثاً وَّاَ نَّکُمْ اِ لَیْْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ O (المومنون ۱۱۵)

ترجمہ۔سو کیا تم خیال رکھتے ہو کہ ہم نے بنایا تم کو کھیلنے کو او ر تم ہمارے پاس پھر کر نہ آؤ گے۔
تشریح:۔ اگر اس زندگی کے بعد دوسری زندگی نہ ہو تویہ کارخانہ صرف کھیل تماشہ اور بے نتیجہ تھا سو حق تعالیٰ کی ذات اس بات سے بہت بلند ہے اور اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے کہ وہ اتنے بڑے نظام کو بغیر کسی عظیم مقصد کے پید افرماتے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَاَفِ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِلَاٰیٰتٍ لِّاُوْ لِیْ الْاَلْبَابِ O الَّذِیْنَ یَذْکُرُونَ اللّٰہَ قِیَاماً وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلاًج سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِO (ال عمران ۱۹۰،۱۹۱)

ترجمہ۔بے شک آسمان اور زمین کا بنانا اور رات اوردن کا آنا جانا اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کیلئے ،وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور
کروٹ پر لیٹے اور فکر کرتے ہیں آسمان اور زمین کی پیدائش میں کہتے ہیں اے ہمارے رب تو نے یہ عبث(بے کار) نہیں بنایا تو سب عیبوں سے پاک ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے