انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات

اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات سے افضل بنایا ہے او ر باقی ساری مخلوقات کو انسان کا خادم بنایا ہے اگر آپ اللہ تعالیٰ کی اس کائنات کا بغور مشاہدہ کریں تو آپ کو ہر ایک چیز ادنی سے ادنی مخلوق حشرات الارض سے لے کر سورج ،چاند ،ستارے حتی کہ فرشتوں جیسی

اعلیٰ مخلوق بھی انسان کی خدمت میں مصروف نظر آتی ہے ۔اللہ
تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں۔

۱۔وَالْاَنْعَامَ خَلَقَہَا لَکُمْ فِیْہَا دِفْءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنْہَا تَأکُلُونَO وَلَکُمْ فِیْہَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُونَ وَحِیْنَ تَسْرَحُونَO وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَّمْ تَکُونُواْ بٰلِغِیْہِ اِلَّابشِقِّ الْاَنْفُسِ ط اِِنَّ رَبَّکُمْ لَرَءُْ وْفٌ رَّحِیْمٌOوَّالْخَیْْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوہَا وَزِیْنَۃًط وَیَخْلُقُ مَا لاَ تَعْلَمُونَO (النحل آیت ۵ تا۸)

ترجمہ۔اور چوپائے بنا دئیے تمہارے واسطے،ان میں سردیوں سے بچنے کا سامان ہے ، اور کتنے فائدے،اور بعضوں کو کھاتے ہو۔ اور تم کو ان سے عزت ہے،جب شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو۔ اور اٹھالے چلتے ہیں بوجھ،تمہارے ان شہروں تک کہ تم نہ پہنچتے وہاں مگر جان مار کر بے شک تمہارا رب بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے۔اور گھوڑے پید اکئے اور خچر اور گدھے، کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے ،اور پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔

۲۔ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّکُمْ مِّنْہُ شَرَابٌ وَّمِنْہُ شَجَرٌ فِیْہِ تُسِیْمُونَO (النحل آیت ۱۰)

ترجمہ۔وہی ہے جس نے اتارا آسمان سے تمہارے لئے پانی ،اس سے پیتے ہو او راسی سے درخت ہوتے ہیں جس میں چَراتے ہو۔

۳۔یُنْبِتُ لَکُمْ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیْْتُوْنَ وَالنَّخِیْلَ وَالْاَعْنَابَ وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ طاِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَOوَسَخَّرَ لَکُمُ اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَط وَالْنُّجُوْمُ مُسَخَّرٰاتٌ بِاَمْرِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَO (النحل۱۱۔۱۲)

ترجمہ۔اگاتا ہے تمہارے واسطے اس سے کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے میوے ،اس میں البتہ نشانی ہے ان لوگوں کو جو غور کرتے ہیں۔ اور تمہارے کام میں لگا دیا رات اور دن اور سورج اور چاند کو اور ستارے کام میں لگے ہیں اس کے حکم سے،اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو سمجھ رکھتے ہیں۔

۴۔وَہُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْکُلُواْ مِنْہُ لَحْماً طَرِیّاً وَتَسْتَخْرِجُواْ مِنْہُ حِلْیَۃً تَلْبَسُونَہَاج وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْاْ مِنْ فَضْلِہ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونO (النحل۱۴)

ترجمہ۔اور وہی ہے جس نے کام میں لگا دیادریا کو کہ کھاؤ اس میں سے گوشت تازہ اور نکالو اس میں سے گہنا جو پہنتے ہو ،اور دیکھتا ہے تو کشتیوں کو چلتی ہیں۔پانی پھاڑ کر اس میں اور اس واسطے کہ تلاش کروا سکے فضل سے اور تاکہ احسان مانو۔

۵۔وَاِنَّ لَکُمْ فِیْ الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہِ مِنْم بَیْْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَناً خَالِصاً سَآ ءِغًالِّلشّٰرِبِیْنَO(النحل ۶۶)

ترجمہ۔اور تمہارے واسطے چوپاوں میں سوچنے کی جگہ ہے پلاتے ہیں تم کو اس کے پیٹ کی چیزوں میں سے گوبر اور لہو کے بیچ میں سے دودھ ستھرا خوشگوار پینے والوں کے لئے۔

۶۔وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتاً وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُوْنَO (النحل ۶۸)

ترجمہ۔اور حکم دیا تیرے رب نے شہد کی مکھی کو کہ بنالے پہاڑوں میں گھر او ر درختوں میں اور ان عمارتوں میں جو لوگ اونچے گھر بناتے ہیں۔

۷۔ثُمَّ کُلِیْ مِن کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلاًط یَخْرُجُ مِنْ م بُطُوْنِہَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہ‘ فِیْہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ط اِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍٍ یَّتَفَکَّرُوْنَO(النحل،۶۹)

ترجمہ۔پھر کھا ہر طرح کے میووں سے پھرچل راہوں میں اپنے رب کی صاف پڑے ہیں،نکلتی ہے انکے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے مختلف رنگ ہیں ، اس میں مرض اچھے ہوتے ہیں لوگوں کے۔اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو دھیان کرتے ہیں۔

۸۔وَاللّٰہُ اَخْرَجَکُمْ مِّنْ بُطُوْنِ اُ مَّہٰتِکُمْ لاَ تَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَّجَعَلَ لَکُمُ الْسَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْءِدَۃَ لا لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَO (النحل،۷۸)

ترجمہ۔اور اللہ نے تم کو نکالا تمہاری ماں کے پیٹ سے نہ جانتے تھے تم کسی چیز کو اور دئیے تم کو کان اور آنکھیں اور دل تاکہ تم احسان مانو۔
سطح زمین کے اوپر لہلہاتی کھیتیاں،مویشی،جنگلات،حیوانات کا وسیع عالم،زمین کی تہہ میں چھپے ہوئے خزانے اور ہواؤں میں اڑتے ہوئے پرندے،سمندری مخلوقات ،غرضیکہ انسان جہاں بھی غور کرے تمام نظام قدرت اس کی خدمت میں شب و روز مشغول ہے اور انسان کی اپنی ذات بھی خدا تعالیٰ کی انمول نعمتوں کا مجموعہ ہے حالانکہ انسان ایک ناقابل ذکرچیز تھا۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔

۹۔ہَلْ اَتٰیْ عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْْئاً مَّذْکُوْراًO اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعاًم بَصِیْراًO (الدھر ۱،۲)

ترجمہ۔کبھی گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں کہ نہ تھا وہ کوئی چیز جو زبان پر آتی۔ہم نے بنایا آدمی کو ایک دور نگی بوند سے،ہم پلٹتے رہے اس کو پھر کردیا ہم نے اس کوسننے والا اور دیکھنے والا۔
تشریح:۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نا قابل ذکر چیز سے الٹ پھیر کرنے کے بعد اس درجہ تک پہنچا دیا کہ اب وہ کانوں سے سنتا اور آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ان قوتوں سے وہ کام لیتا ہے جو کوئی دوسرا حیوان نہیں لے سکتا گویا دوسرے اس کے سامنے بہرے اور اندھے ہیں خدا تعالیٰ نے انسان کو ایسی صفات سے نوازا ہے جن کا کسی اور حیوان میں کوئی حصہ نہیں اور انسان اپنی صفات میں ممتاز اور عالی شان حیثیت رکھتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔

۱۰۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ O (التین ۴)

ترجمہ۔ہم نے بنایا آدمی خوب سے اندازے پر ۔
تشریح:۔ کہ ہم نے انسان کو کیسے اچھے سانچے میں ڈھالا اور کیسی ظاہری اور باطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کر دی ہیں اگر یہ اپنی صحیح فطرت پر ترقی کرے تو فرشتوں سے بھی سبقت لے جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے