امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق حضور اکرم ؐ کے ارشادات

۱۔مَنْ رَّاٰٰ ی مِنْکُمْ مُّنْکَرًا فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ ۔

(رواہ مسلم وا لترمذی و ابن ماجہ وا لنسائی)
ترجمہ۔تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اس پر لازم ہے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے اگر اس کی استطاعت نہ ہوتو اپنے دل سے اس برائی کو مٹائے۔(یعنی بوقت استطاعت مٹانے کا عزم رکھے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
۲۔ ایک دوسری حدیث میں وارد ہے کہ اگر اس کو زبان سے بندکرنے کی طاقت ہو تو بند کر دے ورنہ دل سے اس کو برا سمجھے کہ اس صورت میں بھی وہ بری الذمہ ہے۔
۳۔ ایک اور حدیث میں وارد ہے کہ جو شخص دل سے بھی اس کو برا سمجھے تو وہ بھی مومن ہے مگر اس سے کم درجہ ایمان کا نہیں اب اس کے ساتھ ساتھ اس ارشاد کی تعمیل پر بھی نظر ڈالتے جانا کہ کتنے آدمی ہم میں سے ایسے ہیں کہ کسی ناجائز کام کو ہوتے ہوئے دیکھ کر ہاتھ سے روک دیتے ہیں یا فقط زبان سے اس کی برائی اور نا جائز ہونے کا اظہار کر دیتے ہیں یا کم از کم اس ایمان کے ضعیف درجہ کے موافق دل ہی سے اس کو برا سمجھتے ہیں یا اس کام کو ہوتا ہو ادیکھنے سے دل تلملاتا ہے تنہائی میں بیٹھ کر ذرا تو غور کیجیے کہ کیا ہونا چاہئے تھا اور کیا ہو رہا ہے؟
۴۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس شخص کی مثال جو اللہ کی حدود پر قائم ہے اور اس شخص کی جو اللہ کی حدود میں پڑنے والا ہے اس قوم کی سی ہے جو

ایک جہاز میں بیٹھے ہوں او رقرعہ سے جہاز کی منزلیں مقرر ہو گئی ہوں کہ بعض لوگ جہاز کے اوپر کے حصہ میں ہوں اور بعض لوگ نیچے کے حصہ میں ہوں
جب نیچے والوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ جہاز کے اوپر کے حصہ پر آ کر پانی لیتے ہیں اگر وہ یہ خیال کرکے کہ ہمارے بار بار اوپر پانی کے لئے جانے سے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی ہے اس لئے ہم اپنے ہی حصہ میں یعنی جہاز کے نیچے کے حصہ میں ایک سوراخ سمندر میں کھول لیں جس سے پانی یہاں ہی ملتا رہے اوپر والوں کو ستانا نہ پڑے ایسی صورت میں اگر اوپر والے ان احمقوں کی اس تجویز کو نہ روکیں گے اور خیال کر لیں گے کہ وہ جانیں اور ان کا کام ،ہمیں ان سے کیا واسطہ ،تو اس صورت میں جہاز غرق ہو جائے گا اور دونوں فریق ہلاک ہو جائیں گے اور اگر وہ ان کو روک دیں گے تو دونوں فریق ڈوبنے سے بچ جائیں گے۔ (روالبخاری و الترمذی)
۵۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا تنزل اس طرح شروع ہوا کہ ایک شخص کسی دوسرے سے ملتا اور کسی نا جائز بات کو کرتے ہوئے دیکھتا تو اس کو منع کر تا کہ دیکھ اللہ سے ڈر ایسا نہ کر لیکن اس کے نہ ماننے پر بھی وہ اپنے تعلقات کی وجہ سے کھانے پینے میں اور نشست و برخاست میں ویسا ہی برتاؤ کرتا جیسا کہ اس سے پہلا تھا جب عام طور پر ایسا ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے بعضوں کے قلوب کو بعضوں کے ساتھ خلط کر دیا (یعنی نافرمانوں کے قلوب جیسے تھے ان کی نحوست سے فرماں برداروں کے قلوب بھی ویسے ہی کر دئیے )پھر ان کی تائید میں کلا م پاک کی آیتیں لُعِن الّذِیْنَ کَفَرُوْا سے فَاسِقُون تک پڑھیں اس کے بعد حضور ؐ نے ارشاد فرمایا کہ امر با لمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو ،ظالم کو ظلم سے روکتے رہو اور اس کو حق بات کی طرف کھینچ کر لاتے رہو۔ (رواہ ابو داؤد و الترمذی)
اب ہر شخص اپنی ہی حالت پر غور کر لے کہ کتنے گناہ اس کے علم میں کیے جاتے ہیں جن کو وہ روک سکتا ہے اور پھر بے توجہی،لاپرواہی اور بے التفاتی سے کام لیتا ہے اور اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ اس کو روکنے کی کوشش کرتا ہے تواس کی مخالفت کی جاتی ہے اس کو کوتاہ نظر بتلایا جاتا ہے اس کی مددکرنے کی بجائے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔
۶۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر کسی جماعت اور قوم میں کوئی شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے او ر وہ جماعت و قوم باوجود قدرت کے اس شخص کو اس گناہ سے نہیں روکتی تو ان پرمرنے سے پہلے دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ کا عذاب مسلط ہو جاتا ہے
(ابو داؤد و ابن ماجہ و ابن حبان والاصبہانی و غیرھم کذا فی الترغیب)
۷۔ حضور ؐ سے یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنے والے کو ہمیشہ نفع دیتا ہے اور اس سے عذاب و بلا کو دفع کرتا ہے جب تک کہ اس کے حقوق سے بے پرواہی اور استخفاف نہ کیا جائے۔صحابہؓ نے عرض کیا کہ اس کے حقوق سے بے پرواہی اور استخفاف (یعنی ہلکا اور معمولی سمجھنا) کیے جانے کا کیا مطلب ہے ۔آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی نافرمانی کھلے طورپرکی جائے پھر نہ ان کا انکارکیا جائے اور نہ ان کے بند کرنے کی کوشش کی جائے(رواہ الاصبہانی ،کذا فی الترغیب)
۸۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرمؐ ایک مرتبہ دولت کدہ پر تشریف لائے تومیں نے چہرہ انور پر ایک خاص اثر دیکھ کر محسوس کیا کہ کوئی اہم بات پیش آئی ہے۔حضور اکرمؐ نے کسی سے کچھ بات چیت نہیں فرمائی اور وضو فرما کر مسجد میں تشریف لے گئے میں حجرہ کی دیوار سے لگ کر سننے کھڑی ہو گئی کہ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔حضور اکرمؐ منبر پرتشریف فرما ہوئے اور حمد و ثنا کے بعد ارشاد فرمایا لوگو! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو مباد ا وہ وقت آ جائے کہ تم دعا مانگو اور وہ قبول نہ ہو تم سوال کرو اور سوال پورا نہ کیا جائے۔تم اپنے دشمنوں کے خلاف مجھ سے مدد چاہو اور میں تمہاری مدد نہ کروں۔یہ کلمات طیبات حضور اکرمؐ نے ارشاد فرمائے اور منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ (رواہ ابن ماجہ وابن حبان فی صحیہ کذافی ترغیب)

۹۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍٍ بِیَدِہٖ لَیَخْرُجُنَّ عَنْ اُمَّتِیْ اُنَاسٌ مِّنْ قُبُوْرِھِمْ فِیْ صُوْرَ ۃِ الْقِرَدَۃِ وَالْخَنَازِیْرِ دَاھَنُوْا اَھْلَ الْمَعَاصِیْ سَکَتُوْا عَنْ نَھْیِھِمْ وَ ھُمْ یَسْتَطِیْعُوْنَ۔

(در منثور)
ترجمہ ۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔میری امت کے بہت سے لوگ اپنی قبروں سے بندر اور خنزیر کی صورت میں نکلیں گے

اس وجہ سے کہ انہوں نے گناہ کرنے والوں کے ساتھ مداہنت (نرمی)سے کام لیا اور قدرت ہونے کے باوجود گناہوں سے نہیں روکا۔ (درمنثور)
۱۰۔ حضورؐ فرماتے ہیں اگر کسی شخص کے سامنے گناہ کیا جائے اور وہ اس سے خفا ہو تو وہ ایسا ہے جیسے اسکے سامنے گناہ ہو اہی نہیں اور اگر وہ اس گناہ سے راضی ہے تو وہ ایسا ہے جیسے خود اس میں شامل ہے۔(کیمیائے سعادت)
۱۱۔ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضورؐکا ارشاد ہے حق تعالیٰ نے ایک ایسی بستی پر عذاب نازل کیا جہاں اٹھارہ ہزار آدمی ایسے بستے تھے جن کے اعمال پیغمبروں کی طرح تھے۔لوگوں نے پوچھا حق تعالیٰ نے اس پر کیوں عذاب کیا۔فرمایا کہ اس لئے کہ وہ حق تعالیٰ کے لئے دوسروں سے باز پرس نہ کرتے تھے۔(کیمیائے سعادت)
۱۲۔ حدیث شریف میں ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت یو شع بن نون علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ میں تیری قوم سے ایک لاکھ آدمی ہلاک کروں گا جن میں ساٹھ ہزار نیک اور چالیس ہزار برے ہونگے،عرض کیا کہ حق تعالیٰ نیکوں کو کیوں ہلاک کرے گا فرمایا اس لئے کہ انہوں نے بروں سے باز پرس نہ کی اور ان سے پرہیز نہ کیا۔ (کیمیائے سعادت)
۱۳۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے

ََلَیْسَ مِنَّامَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَلَمْ یُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا وَ یَأمُرْبِالْمَعْرَوْفِ وَیَنْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ ۔

(ترمزی ص۔۴۲۳)

ترجمہ۔جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا ادب نہ کرے اور نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔

۱۴۔عَنْ اَبِیْ ھُرَ یْرَۃَ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ،لَا تَقُوْمُ السَّا عَۃُحَتّٰی لَا یَبْقِیٰ عَلٰی وَجْہِ الْاَرْضِ اَحَدٌِ ﷲِفِیْہِ حَاجَۃٌ،وَحَتّٰی تُوْجَدَالْمَرْاَۃُ نَھَارًاجِھَارًا تُنْکَحُ وَسْطَ الطَّرِیْقِ لَا یُنْکِرُ ذَالِکَ اَحَدٌ وَّلَا یُغَیِّرُ،فَیَکُوْنُ اَمْثَلُھُمْ یَوْمَئذٍ الَّذِیْ یَقُوْلُ،لَوْ نَحَیْتَھَا عَنِ الطَّرِیْقِ قَلِیْلًا فَذَاکَ فِیْھِمْ مِثْلُ اَبِیْ بَکْرٍوَّعُمَرَفِیْکُمْ

(المستدرک للحاکم ج ۴ص۴۹۵)

ترجمہ: حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایاکہ قیامت اسوقت تک قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ روئے زمین پر کوئی ایک آدمی بھی ایسا نہ رہے گا جس کی اﷲ تعالیٰ کو کچھ پرواہ ہواور یہاں تک کہ عورت اس حال میں پائی جائے گی کہ اس سے دن کے وقت سب کے سامنے راستے کے درمیان زنا کیا جائے گا کوئی اس کو برا نہیں سمجھے گا اور نہ روکے گا پس اسوقت ان میں سب سے زیادہ اچھا آدمی وہ ہو گا جو یہ کہے گا اے کاش تم اس کو راستے سے ذرا ہٹالیتے پس یہ آدمی ان میں ایسے ہو گا جیسے تم میں ابوبکرؓ اور عمرؓ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے