امر بالمعروف ونہی عن المنکر

اللہ تعالیٰ نے گناہوں ،بدکاریوں اور نافرمانیوں کی روک تھام کے لئے اور انسانوں کی دنیا و آخرت کی فلاح کے لئے نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا امت محمدیہ کا فریضہ بنا دیا ہے جس کو چھوڑنے کے سبب، آج امت تباہی و بربادی کا شکارہے اور بے حیائی ،بدکاری ،فحاشی اور عریانی کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گناہوں کے سدباب کے لئے جو احکامات نازل فرمائے تھے ۔اور نبی کریمؐ نے جو ارشادات فرمائے تھے ہم نے ان کو پس پشت ڈال دیا جس کے نتیجے میں آج مسلمانوں کی اولادوں میں سے صالحین ،متقین اور مجاہدین پیدا ہونے کی بجائے فاسق ،فاجر اور دین سے بے زار لوگ پید اہو رہے ہیں اگر ہم ان مقدس تعلیمات کو نظر انداز نہ کرتے تو آج جو حالت ہم دیکھ رہے ہیں قطعاً نہ ہوتی۔
امر بالمعرو ف اور نہی عن المنکر کی اہمیت قرآن کریم کی زبانی
ارشاد باری تعا لیٰ ہے

بِسْمِ اﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ِ وَالْعَصْرِOاِنَّ الَاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرِO اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْ الصّٰلِحٰتِ وَتَوَا صَوْ بِالْحَِقِّ ۵وَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِO

ترجمہ۔ زمانے کی قسم (۱) انسان در حقیقت بڑے گھا ٹے میں ہے (۲) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں (۳)(آسان ترجمہ قرآن از مفتی محمد تقی عثمانی)
تشریح۔اس سے بڑھ کر ٹوٹا (خسارہ) کیا ہو گا کہ برف بیچنے والے دوکاندار کی طرح اس کی تجارت کاراس المال جسے عمر عزیز کہتے ہیں دم بدم کم ہوتا جار ہا ہے اگر اس رواداری میں کوئی ایسا کام نہ کر لیا جس سے نہ صرف عمررفتہ ٹھکانے لگ جائے بلکہ ابدی اور غیر فانی متاع بن کر ہمیشہ کے لئے کارآمد بن جائے تو پھر خسارا کی کوئی انتہا نہیں ہے زمانہ کی تاریخ پڑھو اور خود اپنی زندگی کے واقعات پرغور کرو تو ادنی غور و فکر سے ثابت ہو جائے گا کہ جن لوگوں نے انجام بینی سے کام نہ لیا اور مستقبل سے بے پروا ہو کر محض خالی لذتوں میں وقت گزار دیا وہ آخر کار کس طرح ناکام و نامراد بلکہ تباہ و برباد ہو کر رہے۔آدمی کو چاہئے کہ وقت کی قدر پہچانے اور عمر عزیز کے لمحات کو یوں غفلت و شرارت یا لہو لعب میں نہ گنوائے جو اوقات تحصیل شرف و مجد اور اکتساب فضل و کمال کی گرم بازاری کے ہیں۔خصوصاً وہ گراں مایہ اوقات جن میں آفتاب رسالت اپنی انتہائی نور افشانی سے دنیا کو روشن کر رہا ہے اگر غفلت و نسیان میں گزار دئیے تو سمجھو کہ اس سے بڑھ کر آدمی کے لئے کوئی خسارا نہیں ہو سکتا۔ بس خوش نصیب انسان وہی ہے جو اس عمر فانی کو باقی اور ناکارہ زندگی کو کارآمد بنانے کے لئے جدو جہد کرتے ہیں اور بہترین اوقات اور عمدہ مواقع کو غنیمت سمجھ کر کسب سعادت اور تحصیل کما ل کی کوشش میں سرگرم رہتے ہیں۔
انسان کو خسارا سے بچنے کے لئے چار باتوں کی ضرورت ہے اول خدا اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے پورا یقین رکھے ،دوسرے اس یقین کا اثر محض دل و دماغ تک محدود نہ رہے بلکہ جسم سے ظاہر ہو اور اس کی عملی زندگی اس کے ایمان قلبی کا آئینہ ہو ،تیسرے محض اپنی انفرادی اصلاح و فلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم و ملت کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھے جب دو مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول و فعل سے سچے دین اور ہر معاملہ میں سچائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہیں ،چوتھے ہر ایک کو دوسرے کی یہ نصیحت و وصیت رہے کہ حق کے معاملہ میں اور شخصی و قومی اصلاح کے راستے میں جس قدر سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں یا خلاف طبع امور کا تحمل کرنا پڑے تو پورے صبر و

استقامت کے ساتھ تحمل کریں ہرگز قدم نیکی کے راستے سے ڈگمگانے نہ پائے جو خوش قسمت حضرات ان چار اوصاف کے جامع ہو نگے اور خود کامل ہو کر دوسروں کی تکمیل کریں گے ان کا نام صفحات دہر پر زندہ و جاوید رہے گا اور جو آثار چھوڑ کر دنیا سے جائیں گے وہ بطور باقیات صالحات ہمیشہ ان کے اجر کو بڑھاتے رہیں گے۔امام شافعیؒ نے فرمایا اگر قرآن میں سے صرف یہی سورت نازل کر دی جاتی تو ہدایت کے لئے کافی تھی.(تفسیر عثمانی، ۱۰۴)

۱۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْ مُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَO

(ال عمران۔۱۰۴)
ترجمہ۔اور چاہیے کہ رہے تم میں ایک جماعت ایسی جو بلاتی رہے نیک کام کی طرف اور حکم کرتی رہے اچھے کاموں کا اور منع کریں برائی سے اور وہی پہنچے اپنی مراد کو۔
تشریح:۔ حق سبحانہ و تقدس نے ایک اہم مضمون کا حکم فرمایا ہے وہ یہ کہ امت میں سے ایک جماعت اس کام کیلئے مخصوص ہو کہ وہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور برائی سے منع کرے یہ حکم مسلمانوں کیلئے تھا مگر افسوس کہ اس اصل کام کو ہم نے ترک کر دیا جبکہ اس کے مد مقابل یہودو نصاریٰ اور ہنود(ہندو) مسلمانوں میں سے نیکی وتقوی اور حیا کو ختم کرکے فحاشی،عریانی،بے حیائی اور منکرات میں مبتلا کرنے کی بے انتہا کوشش میں مصروف ہیں اور اس کے سدباب کیلئے جس کے ذریعے ہم اپنے اور آئندہ آنے والی نسلوں کے ایمان کو بچا سکتے ہیں بتائے گئے احکامات خدا وندی پر ہمارا عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔اگر کوئی جماعت یا کوئی فرد اس کے لئے اٹھتا بھی ہے تو اس وجہ سے کہ بجائے اعانت کے،اس پر اعتراضات کی اس قدر بھرمار ہوتی ہے کہ وہ آج نہیں تو کل تھک کر بیٹھ جاتا ہے حالانکہ خیر خواہی کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی مدد کی جاتی اور کوتاہیوں کی اصلاح کی جاتی نہ یہ کہ خود کوئی کام نہ کیا جائے اور کام کرنے والوں پر اعتراضات کا نشانہ بنا کر ان کو گویا کام کرنے سے روک دیا جائے۔
۲۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِااللّٰہ ط

(ال عمران ۔۱۱۰)
ترجمہ۔تم ہو بہتر سب امتوں سے جو بھیجی گئی عالم میں حکم کرتے ہو اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہو برے کاموں سے اور ایمان لاتے ہو اللہ پر۔
تشریح:۔ اس آیت شریفہ میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کو ایمان سے بھی پہلے ذکر فرمایاحالانکہ ایمان سب چیزوں کی اصل ہے بغیر ایمان کے کوئی نیکی بھی معتبر نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان میں تو سابقہ امتیں بھی شریک تھیں یہ خاص خصوصیت جس کی وجہ سے تمام انبیاء کی امتوں سے امت محمدیہ کو برتری حاصل ہے وہ یہی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے جو اس امت کا تمغہ امتیاز ہے اس امت کے لئے تمغہ امتیاز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا مخصوص اہتمام کیا جائے ورنہ کہیں چلتے پھرتے تبلیغ کر دینا اس کے لئے کافی نہیں اس لئے کہ یہ کام پہلی امتوں میں بھی پایا جاتا تھا۔امتیاز مخصوص اہتمام کا ہے کہ اس کو مستقل کام سمجھ کر دین کے اور کاموں کی طرح سے اس میں مشغول ہو۔ (فضائل اعمال ،باب فضائل تبلیغ)

۳۔فَلَولَا کَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِکُم اُولُوْا بَقِیَّۃٍ یَّنْھَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلاً مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْھُمْ ج وَا تَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِیْہِ وَ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ

(ھود۱۱۶)
ترجمہ۔ تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں بھلا ان میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جن کے پاس اتنی بچی کھچی سمجھ تو ہوتی کہ وہ لوگوں کو زمین میں فساد مچانے سے روکتے ؟ہاں تھوڑے سے لوگ تھے جن کو ہم نے (عذاب سے )نجات دی تھی اور جو لوگ ظالم تھے وہ جس عیش وعشرت میں تھے اسی کے پیچھے لگے رہے اور جرائم کا ارتکاب کرتے رہے۔(آسان ترجمہ قرآن از مفتی محمد تقی عثمانی)
تشریح۔ یہ پچھلوں کا حال سنا کر امت محمّد یہ ﷺ کو ابھارا گیا ہے کہ ان میں امر باالمعروف اور نھی عن المنکر کرنے والے بکثرت موجود رہنے چاہئیں۔گذشتہ قومیں اس لیئے تباہ ہوئیں کہ عام طور پر لوگ عیش وعشرت کے نشہ میں چور ہو کرگنا ہوں کا ارتکاب کرتے رہتے اور بڑے با اثر آدمی جن میں کوئی خیر کا اثر باقی تھا انھوں نے منع کرنا چھوڑ دیا ،اس طرح کفر اورگناہوں اور ظلم وزیادتی سے دنیا کی جو حالت بگڑ رہی تھی اس کا سنوارنے والا کوئی نہ رہا

۔چند گنتی کے آدمیوں نے گناہوں سے روکنے کی کچھ آواز بلند کی مگر ان کی کون سنتا تھا ،نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منع کرنے والے عذاب سے محفوظ رہے باقی سب قوم
تباہ ہو گئی ۔نیک لوگ غالب ہوتے تو قوم ہلاک نہ ہوتی تھو ڑے تھے سو آپ بچ گئے۔حدیث صحیح میں ہے کہ جب ظالم کا ہاتھ پکڑکر ظلم سے نہ روکا جائے اور لوگ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکناچھوڑ دیں ،تو قریب ہے کہ اﷲ تعالیٰ ایسا عام عذاب بھیجیں جو کسی کو نہ چھوڑے (العیاذ با ﷲ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے