وضو تیمم اور غسل کی اغلاط

1۔ مشہور ہے کہ کسی کا ستر کھلا ہو نظر پڑنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یہ محض غلط ہے۔

2۔ مشہور سے کہ سور کے دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یہ محض غلط ہے۔

3۔ مشہور ہے کہ استنجا کے بچے ہوئے پانی سے وضو نہ کرنا چاہیے یہ محض غلط ہے۔

4۔ مشہور ہے کہ وضو کے بعد گالی دہنے اور کھل کھلا کر ہنسنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے سو یہ غلط ہے ہاں نماز پنجگانہ میں قہقہہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

5۔ بعضے کہتے ہیں کہ جس وضو سے جنازے کی نماز پڑھی ہو اس سے پنج گانہ نمازوں میں سے کوئی نماز نہ پڑھے سو یہ محض غلط ہے۔

6۔ بعض عورتیں سمجھتی ہیں کہ باہر پھرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے سو یہ محض بے اصل ہے البتہ بے ضرورت عورت کیلئے باہر نکلنا برا ہے۔

7۔ بعضے آدمی کپڑے یا تکیے پر تیمم کرلیتے ہیں اگرچہ اس پر زیادہ غبار نہ ہو سو یہ بالکل درست نہیں

8۔ بعض لوگ مجبوری کے باعث تیمم کرکے دل میں تنگی محسوس کرتے ہیں یا اسے طہارت کامل نہیں سمجھتے ایسا اعتقاد کرنا سخت گناہ ہو کیونکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس کی اجازت دی ہے۔

9۔ بعض آدمی ایک مقام سے کئی آدمیوں کے تیمم کو برا سمجھتے ہیں یاد رہے کہ ایک مقام سے اور ایک ڈھیلے سے چند آدمی یکے بعد دیگرے تیمم کرسکتےہیں۔

10۔ بعض لوگ تیمم کو بھی وضو کی طرح کرنا ضروری سمجھتے ہیں یہ محض غلط ہے تیمم میں صرف تین فرض ہیں۔

ا۔ پاکی کی نیت کرنا
ب۔ ایک مرتبہ زمین پر ہاتھ مار کے پورے منہ کا مسح کرنا
ج۔ دوسری مرتبہ زمین پر ہاتھ مار کر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کا مسح کرنا تیمم وضو
اور غسل دونوں کا ایک ہی طرح کیا جاتا ہے