نماز و جماعت اور خطبہ کی اغلاط

1۔ مشہور ہے کہ چارپائی پر نماز پڑھنے سے بندر ہو جاتاہے سو یہ محض بے اصل ہے

۲۔ مشہور ہے کہ چاند اور سورج کے گہنے کے وقت کھانا پینا منع ہے سو اس کی بھی کوئی اصل نہیں البتہ وہ وقت توجہ الی اللہ کا ہے اس وجہ سے کھانے پینے کا شغل ترک کر دینا اور بات ہے رہا یہ کہ دنیا کے تمام کاروبار بلکہ گناہ تک تو کرتا رہے اور صرف کھانا پینا چھوڑ دے یہ شریعت کو بدل ڈالنا اور بدعت ہے

3۔ بعض عورتیں نماز پڑھنے کے بعد جانماز کا گوشہ یہ سمجھ کر الٹ دینا ضروری سمجھتی ہیں کہ شیطان اس پر نماز پڑھے گا سو اس میں کوئی اصل نہیں

4۔ اکثر عوام کا معمول ہے کہ مریض جب جماعت میں شریک ہوتا ہے تو تمام صف کے بائیں طرف بیٹھتا ہے گویا درمیان میں کھڑا ہونے کو برا سمجھتے ہیں سو یہ امر محض بے اصل ہے۔

5۔ بعض کا خیال ہے کہ تہجد کے بعد سونا نہ چاہیے ورنہ تہجد جاتا رہتا ہے سو اس کی کوئی اصل نہیں اور بہت سے آدمی اسی وجہ سے محروم ہیں کہ صبح تک جاگنا مشکل ہے اور سونے کو ممنوع سمجھتے ہیں سو جان لینا چاہیے کہ سو رہنا تہجد کے درست ہے۔

6۔ مشہور ہے کہ دو کمر بند میں نماز نہیں ہوتی یعنی اگر لنگی اور پائجامہ کے نیچے نیکر پہن لیا تو نماز نہیں ہوتی سو یہ محض غلط اور بے اصل ہے جب نیچے کا کپڑا بھی پاک ہوتو پھر کمربند خواہ تین ہوں بلاشبہ نماز ہوجاتی ہے

7۔ مشہور ہے کہ اندھیرے میں نماز پڑھنا ناجائز ہے سو یہ محض غلط ہے البتہ اتنی اٹکل ضرور رہے کہ قبلہ سے بے رخ نہ ہوں۔

8۔ بعض عورتیں کہتی ہیں کہ اگر کئی عورتیں ایک جگہ کھڑی ہوکہ بلاجماعت نماز پڑھیں تو آگے پیچھے کھڑا ہونا درست نہیں یہ محض غلط ہے۔

9۔ عوام میں مشہور ہے کہ نماز عشاء سے پہلے سو رہنے سے عشاء کی نماز قضا ہو جاتی ہے یعنی اگر پھر پڑھے تو قضا کی نیت کرے سو یہ بالکل غلط ہے البتہ بلا عذر سونا درست نہیں یعنی مکروہ ہے اور نصف شب کے بعد مکروہ وقت ہوجاتا ہے اگرچہ سویا نہ ہو۔

10۔ عورتوں میں مشہور ہے کہ عورتیں مردوں سے پہلے نماز نہ پڑھیں سو یہ محض غلط ہے۔

11۔ عوام میں مشہور ہے کہ نماز میں داہنا انگوٹھا سرک جانے سے نماز جاتی رہتی ہے سو یہ محض غلط ہے البتہ بلاضرورت اٹھانا بہت عیب ہے۔

12۔ بعض عوام کہتے ہیں کہ سنت کے بعد نہ بولے اگرچہ گھوڑوں کی ٹاپ میں دب گیا ہو اس کی کچھ اصل نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے میں علاوہ فساد عقائد کے بعض اوقات کوئی واجب شرعی بھی ترک ہو جائے گا مثلا کسی نے کوئی مسئلہ پوچھا یا کسی اور معاملے میں اعانت چاہی۔

13۔ بعض کو دیکھا ہے کہ ریل میں سوار ہو کر بلا عذر بھی نماز بیٹھ کر یا بے رخ پڑھ لینے کو جائز سمجھتے ہیں سو ریل میں کوئی حکم نہیں بدلتا اور جاننا چاہیے کہ تھوڑی سی دشواری بھی نہیں بلکہ معمولی دقتیں تو گھر میں بھی پیش آ جاتی ہیں۔

14۔ بعضے عوام ایسے مرض میں نماز چھوڑ دیتے ہیں جس میں بدن اور کپڑے کا پاک رہنا مشکل ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس حالت میں نماز جائز ہونےکی کوئی صورت نہیں سو یہ خیال محض غلط ہے علما سے مسائل پوچھ کر نماز پڑھنا چاہیے۔

15۔ بعض عوام کو اس کا بھی پابند دیکھا ہے کہ جب جمعہ کے لیے آتے ہیں اول مسجد میں تھوڑی دیر بیٹھ کر سنتیں پڑھتے ہیں گو نزدیک ہی سے آئے ہوں اور گو سانس درست کرنے کی بھی ضرورت نہ ہو سو اس کی کوئی اصل نہیں۔

16۔ مشہور ہے کہ جس کی سنتیں صبح کی رہ جاویں اس کے درست ہونے کی شرط یہ ہے کہ سورج نکنے تک اسی جگہ بیٹھا رہے سو یہ غلط ہے بلکہ یہ جائز ہے کہ کسی کام میں لگ جاوے اور بعد آفتاب نکنے کے ان کو پڑھ لے۔