قرأت وتجوید کی اَغلاط

۱۔قُرآن مجید میں بعضے مقامات پر بے موقع وصل کرنے سے کفر کا فتویٰ بعض نے لکھ دیا ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ الحمدشریف میں بعضے حروف کی وصل سے شیطان کا نام پیدا ہونا لِکھ دیا ہے۔

سو ان دونوں اَمر کی کوئی اصل نہیں، البتہ قواعدِقرات کے اعتبار سے یہ دونوں وصل بے قاعدہ اور قبیح ہیں، مگر کُفر یا شیطان کے نام کا دعویٰ محض تصنیف (گھڑی ہوئی بات)ہے۔

۲۔ حفاظ وغیرہ میں مشہور ہے کہ سورۂ برأت پر کسی حالت میں بسم اللّٰہ نہیں پڑھی جاتی، سو بات یہ ہے کہ صرف ایک حالت میں بسم اللّٰہ نہیں ہے کہ اُوپر سے پڑھتے پڑھتے سورہ برأت شروع کرے، باقی اگر تلاوت اسی سورت سے شروع کرے یادرمیان میں کچھ وقفہ کرکے بقیہ سورۃ پڑھے تو بسم اللّٰہ پڑھے۔

۳۔ اکژعورتیں قرآن پڑھنے میں اگر ان کے میاں کا نام آجاوے تو اس کو چھوڑ جاتی ہیں، یا چپکہ سے کہہ لیتی ہیں، یہ واہیات بات ہے، قرآن شریف میں کیا شرم۔

۴۔ دستور ہے کی(قرآن پاک کے) ختم کے دِن حفاظ سورہ اِخلاص تین مرتبہ پڑھتے ہیں، یہ مکروہ ہے، لٰہذا قابلِ ترک ہے۔