عقائد کی اغلاط

21۔ بعض لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ شب برات وغیرہ میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں اور دیکھتی ہیں کہ کسی نے ہمارے لئے کچھ پکایا ہے یا نہیں ظاہر ہے کہ ایسا امر مخفی دلیل نقلی اور کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتا اور وہ یہاں ندارد

22۔ بعض لوگ قبروں پر چڑھاوا چڑھاتے ہیں چونکہ مقصود اس سے تقرب و رضامندی اولیا اللہ کی ہوتی ہے اور ان کو اپنا حاجت روا سمجھتے ہیں یہ اعتقاد شرک ہے

23۔ اکثر حضرات اولیا اللہ کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر اس نیت سے فاتحہ و نیاز دلاتے ہیں کہ ان سے ہمارے کاروبار کو ترقی ہو گی مال اولاد ہوگا رزق بڑھے گا اور اولاد کی عمر بڑھے گی۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اس طرح کا عقیدہ محض شرک ہے

24. بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب شب برات سے پہلے کوئی مر جاِئے تو جب تک اس کے لیے فاتحہ شب برات نہ کیا جاوے وہ مردوں میں شامل نہیں ہوتا۔

25۔ عوام کا عقیدہ ہے کہ ہر جمعرات کی شام کو مردوں کی روحیں اپنے گھروں میں آتی ہیں اور ایک کونے میں کھڑے ہو کر دیکھتی ہیں کہ ہم کو کون ثواب بخشتا ہے اگر کچھ ثواب ملے تو خیر ورنہ مایوس ہو کر لوٹ جاتی ہیں

26۔ بعض عوام خصوصا عورتیں سمجھتی ہیں کہ ہر آدمی پر اس کی عمر کا تیسرا، آٹھواں، تیرھواں، اٹھارہواں، اکیسواں، اڑتیسواں، تینتالیسواں، اڑتالیسواں سال بھاری ہوتا ہے یہ غلط خیال اور برا عقیدہ ہے۔

27۔ اکثر عوام اور خصوصا عورتیں مرض چیچک اور کنٹھی میں علاج کرانے کو برا سمجھتے ہیں اور بعض عوام اس مرض کو بھوت پریت کے اثر سمجھتے ہیں یہ بالکل غلط ہے

28۔ بعض لوگ شب برات کے حلوے کے متعلق کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا دندان مبارک شہید ہوا تھا تو آپ نے حلوا نوش فرمایا تھا یہ بالکل غلط موضوع اور غلط قصہ ہے

29۔ بعض عورتیں ایسی عورت کے پاس کہ جس کے بچے اکثر مر جاتے ہیں خود جانے اور بیٹھنے سے روکتی ہیں اور اپنے بچوں کو بھی ایسی جگہ جانے سے روکتی ہیں اور یوں کہتی ہیں کہ مرت بیائی کگ جائے گی یہ بہت بری بات ہے ایسا کرنے سے گناہ ہوتا ہے

30۔ اکثر لوگ جو وظائف کی اجازت لیتے ہیں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں عقیدے کا فساد ہے یوں سمجھتے ہیں کہ اس میں صاحب اجازت کا تصرف شامل ہو جاتا ہے