طہارت اور نجاست کی اغلاط

1۔ بعض عورتوں میں مشہور ہے کہ کوا وغیرہ گھڑے میں چونچ ڈال دے تو اس میں اتنا پانی بھرے کہ باہر نکل جاوے اس سے پاک ہوجاتا ہے تو اس کی کچھ اصل نہیں جس جانور کا جھوٹا مکروہ ناپاک ہے پانی ترجانے سے بھی ویسا ہی رہے گا۔ اگر پاک ہے تو اس کی کچھ حاجت نہیں

2۔ بعض عوام کہتے ہیں کہ اگر پانی میں ناخن ڈوب جائے تو اس کا استعمال کرنا مکروہ ہے سو یہ غلط ہے البتہ اگر ناخن میں میل مجتمع ہو تو ایسا کرنا نظافت کے خلاف ہے

3۔ عوام میں مشہور ہے کہ چراغ کا تیل ناپاک ہوتا ہے مگر یہ محض بے اصل ہے۔

4۔ حقہ کے پانی کو بھی عوام ناپاک سمجھتے ہیں اگرچہ اس سے بچنا نظافت کے لیے ضروری ہے لیکن اس سے ناپاک ہونا لازم نہیں آتا

5۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورتوں کو استرہ سے ناپاکی کے بال لینا منع ہے سو یہ غلط ہے خواہ طبعا نامناسب ہو۔

6۔ بعض عورتیں سمجھتی ہیں کہ ناپاک کپڑا دھو کر جب تک سوکھ نہ جاوے وہ پاک نہیں ہوتا اور اس سے نماز درست نہیں یہ بالکل غلط ہے

7۔ بعض کہتے ہیں کہ حالت جنابت میں غسل سے پہلے بالوں یا ناخنوں کے جدا کرنے سے بال اور ناخن جنبی رہیں گے اور قیامت کو استغاثہ کریں گے کہ ہم کو جنبی چھوڑا سو یہ کہیں نظر سے نہیں گزرا اور ظاہرا صیحح نہیں

8۔ غسل اور پاخانہ میں بات کرنے کو عوام ناجائز سمجھتے ہیں سو یہ بے اصل ہے البتہ بلا ضرورت باتیں نہ کریں۔

9۔ بعض عوام سمجھتے ہیں کہ اگر کتے سے کوئی چیز کپڑا برتن وغیرہ چھو جائے تو وہ چیز ناپاک ہے یہ غلط ہے البتہ رال لگنے سے ناپاک ہو جائے گا۔