حیض و نفاس کی اغلاط

1۔ عوام کہتے ہیں کہ جو عورت حیض میں اور زچہ میں مر جاوے اس کو دو بار غسل دینا چاہیے یہ محض بے اصل ہے

2۔ مشہور ہے کہ زچہ جب تک غسل نہ کرے اس کے ہاتھ کی کوئی چیز کھانا درست نہیں یہ بھی غلط ہے حیض و نفاس میں ہاتھ ناپاک نہیں ہوتے

3۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ چلے کے اندر زچہ خانے ہیں خاوند کو نہ جانا چاہیے سو اس کی کوئی اصل نہیں

4. عام عورتیں زچہ خانے میں چالیس روز تک نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتی اگرچہ پہلے ہی پاک ہو جائیں سو یہ بالک دین کے خلاف بات ہے چالیس دن نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت ہے باقی کم سے کم مدت کی کوئی حد نہیں جس وقت پاک ہو جائے غسل کرکے فورا نماز شروع کردے اسی طرح اگر چالیس دن میں بھی خون موقوف نہ ہو تو چالیس دن کے بعد پھر اپنے آپ کو پاک سمجھ کر نماز شروع کردے