تعویذات و عملیات اور اِستخارہ کی اغَلاط

۱۔ بعض عاملوں کو گو وہ اہلِ علم ہی ہوں۔ بعضے عملیات میں دن وغیرہ کی قید کی رعایت کرتے ہوئے دیکھا ہے، اکژ عملیات میں ساعت یا دِن کی قید ہوتی ہے۔ جس کی رعایت بعضے عامل کرتے ہیں، بعضے ماہ کے عروج ونزول کا لحاظ کرتے ہیں، اور مبنٰی ان سب کا وہی اعتقادِتاثیرِنجوم ہے، یہ باطل اور معصیت ہے، سو یہ شعبہ نجوم کا ہے، اور واجب الترک ہے۔ اور یہ خیال کہ یہ عمل کی شرط ہے، یہ محض غلط ہے۔
میں نے ایسے اعمال میں یہ قید بالکل حذف کردی ہے، اور بفضلہ تعالٰی اثر میں کوئی کمی نہیں ہوئی، عمل کا اثر زیادہ ترخیال سے ہوتا ہے، ان قیود کو اس میں کوئی دخل نہیں، یہ (دن وغیرہ کی قید کے) سب دعوے ہیں عاملوں کے، جو کہ غلط اور باطل ہیں۔

۲۔ عوام میں بعضے اعمال چور کے معلوم کرنے کے جائز اور حجت سمجھے جاتے ہیں، سو سمجھ لینا چاہئے کہ نہ تو جائز ہیں، نہ شرعاً حجت ہیں، اور جس فن کا وہ عمل ہے اس کے اُصول سے وہ عمل قابلِِ اعتبار نہیں، وہ باکل خیال کے تابع ہے، حتٰی کہ اگر دو عامل مختلف دو شخصوں پرگمان چوری کا رکھتے ہوں تو ہر عامل کے عمل کا الگ الگ نام نکل آوے گا، بلکہ اگر ان عاملوں کو فرضی نام بھی بتلا دیئے جاویں تو اس عمل سے وہی نام نکل آویں گے، جس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ وہ عمل کوئی چیز نہیں، محض خیالی چیز ہے۔

۳۔ اس طرف بھی اکثر عامل التفات نہیں کرتے کہ آیاتِ قرآنیہ کو بے وضو لکھ دیتے ہیں، اسی طرح بے وضو آدمی کے ہاتھ دے دیتے ہیں،اس کا لکھنا اورمس کرنا(یعنی چھونا)دونوں بلاوضو ناجائز ہیں۔

۴۔ بعض کہ خاص اِستخارہ اس غرض سے بتلاتے دیکھا ہے کہ اس سے کوئی واقعہِ ماضیہ یا مُستقبلیہ معلوم ہو جائے گا، سو اِستخارہ اس غرض کے لئے شریعت میں منقول نہیں، بلکہ وہ تو محض کسی اَمر کے کرنے نہ کرنے کاتردّدرفع کرنے لے لئے ہے، نہ کہ واقعات معلوم کرنے کے لئے، بلکہ ایسے اِستخارہ کے ثمرہ پر یقین کرنا بھی ناجائز ہے۔

۵۔ ایک طحال(تلی)کے تعویذمیں قیدتھی کہ سنیچراوربدھ کے دن کیاجاوے،اس کو حضرتِ والاؒ نے ساقط کردیا اورفرمایا: یہ نجومی کی من گھڑت ہے۔ اوربلاقیددن کے استعمال کرانا شروع کر دیا اور باذنہٖ تعالیٰ وہی نفع ہوا۔

۶۔ اکثر عوام عملیات کو ایسا موثر سمجھتے ہیں کے حق تعالیٰ سے غافل اور بے بہرہ ہو جاتے ہیں، اور اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھے رہتے ہیں، حتیٰ کہ عامل اِن آثار کو قریب قریب اپنے اختیار اور قدرت میں سمجھنے لگتا ہے، بلکہ کبھی زُبان سے بھی دعویٰ کرنے لگتا ہے، کہ میں ایسا کردُوں گا، تو ایسا جازم اعتقاد کہ ضرور اس میں فلاں تاثیر ہے اور اسی پر نظر اور کامل اعتماد یہ ناجائز ہے۔
اگر عامل کا اعتقاد نہ بھی ہوا(تو کیا ہواجبکہ) جہلاء کایہ اعتقاد ضرور ہوتا ہے، چنانچہ حکمی عمل اور تیر بہدف کو تلاش کرتے پھرا کرتے ہیں ، یا اولاد ہونے کے لئے دُوسرے کی اولاد کو ضررَ پہنچاتے ہیں اور تعویذ دے کراس فساد کا سبب بنتا ہے، ایسے شخص کو تعویذ دینا درست نہیں معلوم ہوتا ہے، کیونکہ معصیت کا سبب بننا بھی معصیت ہے، اسی طرح بعض اوقات دوسرا مفسدہ اس پر مرتب ہوتا ہے وہ یہ کہ جب اثر نہیں ہوتا تو جاہل یوں کہتا ہے کہ: اللہ کے نام میں بھی تاثیر نہیں : حالانکہ اللہ کا نام ان باتوں کے لئے تھوڑا ہی ہے،وہ تو دِل کے امراض کے لئے ہے، اس لئے (اگر ایسے تعویذ کا)اثر نہ ہو تو خواہ مخواہ (بلاوجہ) اللہ کے نام کو بے اثر سمجھنا غلط ہے، لہٰذا چاہیے کہ اس کو بے اثر نہ سمجھے۔

۷۔ بعض اوقات اس سے نعوذباللہ قرآن و حدیث کے صحیح ہونے اور حق تعالیٰ کے صادق الوعد ہونے میں شبہ لگتا ہے، ظاہر ہے اس مفسدہ سے بچنا اور بچانا دونوں واجب (اور لازم)ہیں، پس ایسے لوگوں کو ہر گز تعویذ نہ دیا جائے اور جہاں ایسا(عقیدہ اور یقین نہ ہوبلکہ صرف ایسا اندیشہ و)احتمال ہو تو کہہ دے کہ: دیکھو مثلِ دواء طبّی کے ہیں ، موثر حقیقی نہیں، نہ اس پر اثر مرتب ہونے کا حتمی وعدہ اللہ و رسول کی طرف سے ہوا، نہ اللہ کے نام اور کلام کا یہ اصلی اثر ہے:

۸۔ لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جو بات تعویذ سے ہو گی وہ پڑھنے سے بھی نہ ہو گی، حالانکہ اس کی کوئی دلیل نہیں، (محض بے اصل اور بے دلیل ہے بلکہ خلافِ دلیل ہے) تعویذ لکھنے کا طریقہ حضور ﷺ سے کہیں ثابت نہیں، آپؐ کا معمول تھاکہ آپؐ پڑھ کر دَم فرما دیا کرتے تھے۔

۹۔ تعلیقِ تمائم و تعاویذ (یعنی تعویذوں کا گلے وغیرہ میں لٹکانا) قائم مقام قراء ت کے ہے، یعنی جو لوگ نہ پڑھ سکیں ، مثلاً نابالغ ہوں تو ان کے گلے میں ڈال دیا جائے، اور بڑے جو پڑھ سکیں ان کو قراء ت کرنا ہی اصل ہے( یعنی ان کہ خود پڑھنا چاہیے) ، دلیل اس کی حدیث عبداللہ بن عمروبن عاصؓ کی ہے جس میں اَعُوذُ بِکَلِماتِ الّٰلہِ التَّامَّاتِ کا بڑوں کو یاد کرا دینا اور بچوں کے گلے میں لکھ کر لٹکانا آیا ہے۔

روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل عملیات (تعویذات ) میں زبان سے ہی کہناہے، لیکن جو بچہ وغیرہ پڑھنے پر قادر نہ ہواس کے واسطے حدیث میں ہی ایک صحابی سے منقول ہے: کتبھافی صکّ وعلّقھا فی عنقہ : یعنی لکھ کر بچے کے گلے میں ڈال دیتے تھے۔ سمجھ داروں کے واسطے کہیں کسی راویت سے ثابت نہیں کہ تعویذ اس کے گلے (وغیرہ) میں لٹکایا (یا باندھا) گیا ہو۔ اب تعویذ کی ایسی رسم ہو گئی کے بوڑھے بوڑھے تعویذ مانگتے ہیں یا آگے ترقی کی دُعا منگواتے ہیں، بس لوگ یوں چاہتے ہیں کے محنت نہ کرنا پڑے، بس جو کام ہو وہ تعویذ (یا دوسرے کی دُعا) ہی سے نِکل جائے، خود کچھ نہ کرنا پڑے، یاد رکھو! یہ تعویذ صرف بچوں کے لئے ہیں جو خود پڑھنے اور لکھنے سے قاصر اور معذور ہیں۔

۱۰۔ آج کل عملیات میں بکثرت دھوکا دیا جاتا ہے، اور اس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، بعض میں تو خود عامل ہی دھوکے میں ہے، اور بعض ( خود تو دھوکے میں نہیں بلکہ حقیقت جانتے ہیں مگر پیسے کمانے کے لئے ) قصداً معمول کو دھوکا دیتے ہیں۔ بعضے لوگ حاضرات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے جنّات حاضر ہوتے ہیں اور کسی عورت یا طفل نا بالغ کے ہاتھ میں کوئی نقش با بعضے اس کے انگوٹھے پر سیاہی اور تیل لگا کر اس کے نگاہ جما کر دیکھنے کوکہتے ہیں، اور اس کہ کچھ صورتیں نظر آنے لگتی ہیں ، جن کی نسبت کہا جاتا ہے کہ یہ جنّ ہیں ، یہ جنّات کے آنے کا دعویٰ نرااِنخداع یا خداع ہے( یعنی دھوکا کھانا یا دھوکا دینا ہے)۔