اذان اقامت اور امامت کی اغلاط

1۔ مشہور ہے کہ اذان نماز کے لیے مسجد میں بائیں طرف سے ہو اور اقامت یعنی تکبیر دائیں طرف شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔

2۔ مشہور ہے کہ اگر مقتدی امامہ باندھے ہو اور امام صرف ٹوپی پہنے ہو تو نماز مکروہ ہے یہ محض بے اصل ہے البتہ جو شخص ٹوپی سے بازار اور مجمع و احباب میں جاتا ہو اس کو بدون امامہ کے نماز پڑھنا مکروہ ہے خواہ وہ امام ہو یا مقتدی

3۔ بعض لوگ اذان کے سامنے سے یا دعا کے سامنے سے جانا ناجائز سمجھتے ہیں اس کی کچھ اصل نہیں

4۔ عوام متکبرین میں مشہور ہے کہ جس امام کے گھر میں پردہ نہ ہو اس کے پیچھے نماز درست نہیں سو یہ سمجھ لیا جاوے کہ معترضین کی بیبیاں اگر ایک نامحرم کے روبرو بھی آتی ہوں تو ان کو بھی بے پردہ کہا جاوے گا اور امام و مقتدی سب یکساں ہوں گے

5۔ بعض کو طاعون میں اذان دیتے ہوئے دیکھا ہے اس کی کوئی اصل نہیں

6۔ یہ ایک مشہور بات ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہہ اذان میں اسہد کہا کرتے تھے۔

7۔ بعضے صبح صادق اچھی طرح ہونے سے پہلے ہی اذان پڑھ دیتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ جب اچھی طرح یعنی صاف اور نمایاں طور پر صبح صادق ہو جائے تب اذان پڑھنا چاہیے

8۔ بعض عوام اذان کا جواب دیتے ہوئے آخر میں لاالہ الااللہ کے بعد محمد رسول اللہ بھی کہہ دیتے ہیں یہ دین میں زیادتی اور بدعت ہے اس کا ترک ضروری ہے

9۔ نعضے لوگ تکبیر یا اذان پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں مگر کسی جاننے والے کو سنا کر صیحح نہیں کرتے یوں ہی غلط سلط پڑھتے رہتے ہیں یہ جائز نہیں صیحح کر لینا ضروری ہے

10۔ اکثر عوام اذان کے پورے کلمات کا جواب دینے کے بحائے صرف اشھد ان محمد رسول اللہ سن کر صلی اللہ علیہ وسلم کہہ لینے کو کافی سمجھتے ہیں اذان کے تمام کلمات کا جواب دینا چاہیے اور بعد میں درود شریف پڑھ کر دعا پڑھنا چاہیے

11۔ اکثر عوام نماز کے لیے تکبر کے پورے کلمات کا جواب دینے کے بحائے صرف اشھد ان محمد رسول اللہ سن کر صلی اللہ علیہ وسلم کہہ لینے کو کافی سمجھتے ہیں پوری تکبیرکے تمام کلمات کا جواب دینا چاہیے یہی مستحب ہے