اشعارکا ذکر

ابوہریرة رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ شاعران عرب کے کلام میں بہترین کلمہ لبید کا یہ مقولہ ہے أَلا کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلا اللَّہ بَاطِل۔ اللہ تعالی کے علاوہ سب چیزیں باطل ہیں۔

“حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کسی نے پوچھا کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کبھی شعر بھی پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ۔ مثال کے طور پر کبھی عبداللہ بن رواحہ کا کوئی شعر بھی پڑھ لیتے تھے ( اور کبھی کبھی کسی اور کا بھی) چنانچہ کبھی طرفہ کا یہ مصرعہ بھی پڑھ لیا کرتے تھے ومایائتیک بالاخبار من لم تزود یعنی تیرے پاس خبریں کبھی وہ شخص بھی لے آتا ہے جس کو تو نے کسی قسم کا معاوضہ نہیں دیا، یعنی واقعات کی تحقیق کے لئے کسی جگہ کے حالات معلوم کرنے کے لئے تنخواہ دینا پڑتی ہے ، سفر کا خرچ دے کر آدمی کو حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجنا پڑتا ہے، مگر کبھی گھر بیٹھے بٹھائے کوئی آ کر خود ہی سارے حالات سنا جاتا ہے ، کسی قسم کا خرچ بھی اس کے لئے نہیں کرنا پڑتا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مثال ارشاد فرمائی کہ بلا کسی اجرت اور معاوضہ کے گھر بیٹھے جنت دوزخ آخرت قیامت پچھلے انبیاء کے حالات اور آئندہ آنے والے واقعات سناتا ہوں پھر بھی یہ کفار قدر نہیں کرتے ۔ اس حدیث میں دو شاعروں کا ذکر ہے ، حضرت عبداللہ بن رواحہ تو مشہور صحابی ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے یہ مسلمان ہو گئے تھے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی غزوہ موتہ میں شہید ہو گئے تھے۔ طرفہ عرب کا مشہور شاعر ہے ادب کی مشہور کتاب سبعہ معلقہ میں دوسرا معلقہ اسی کا ہے ۔ اس نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا۔”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ سچا کلمہ جو کسی شاعر نے کہا ہے وہ لبید بن ربیعہ کا یہ کلمہ ہے الا کل شئی ماخلا اللہ باطل۔ آگاہ ہو جاؤ اللہ جل شانہ کے سوا دنیا کی ہر چیز فانی ہے اور امیہ بن ابی الصلت قریب تھا کہ اسلام لے آئے ۔
“جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک پتھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی میں لگ گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ خون آلود ہو گئی، تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا جس کا ترجمہ: یہ تو ایک انگلی ہے جس کو اس کے سوا کوئی مضرت نہیں پہنچی کہ خون آلود ہو گئی، اور یہ بھی رائیگاں نہیں بلکہ اللہ جل شانہ کی راہ میں یہ تکلیف پہنچی جس کا ثواب ہو گا۔”

حضرت شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اس وقت میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ کے سو شعر سنائے ہر شعر پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے اور سناؤ۔ اخیر میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ اس کا اسلام لے آنا بہت ہی قریب تھا ۔

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں منبر رکھایا کرتے تھے، تاکہ اس پر کھڑے ہو کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مفاخرت کریں ۔ یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں فخریہ اشعار پڑھیں یا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کریں ، یعنی کفار کے الزامات کا جواب دیں۔ یہ شک راوی کا ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے کہ حق تعالیٰ جل شانہ روح القدس سے حسان کی امداد فرماتے ہیں ۔ جب تک کہ وہ دین کی امداد کرتے ہیں ۔”

“حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو ایک قصہ سنایا ایک عورت نے کہا یہ قصہ حیرت اور تعجب میں بالکل خرافہ کے قصوں جیسا ہے (عرب میں خرافہ کے قصے ضرب المثل تھے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جانتی بھی ہو خرافہ کا اصل قصہ کیا تھا؟ خرافہ بنو عذرہ کا ایک شخص تھا جس کو جنات پکڑ کر لے گئے تھے۔ ایک عرصہ تک انہوں نے اس کو اپنے پاس رکھا پھر لوگوں میں چھوڑ گئے۔ وہاں کے زمانہ قیام کے عجائبات وہ لوگوں سے نقل کرتا تھا تو وہ متحیر ہوتے تھے اس کے بعد سے لوگ ہر حیرت انگیز قصے کو حدیث خرافہ کہنے لگے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ گیارہ عورتیں یہ معاہدہ کر کے بیٹھیں کہ اپنے اپنے خاوند کا پورا پورا حال سچا سچا بیان کر دیں کچھ چھپائیں گی نہیں ایک عورت ان میں سے بولی کہ میرا خاوند ناکارہ دبلے اونٹ کے گوشت کی طرح ہے (گویا بالکل گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جس میں زندگی باقی ہی نہیں رہی اور گوشت بھی اونٹ کا جو زیادہ مرغوب بھی نہیں ہوتا) اور گوشت بھی سخت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو کہ نہ پہاڑ کا راستہ سہل ہے جس کی وجہ سے وہاں چڑھنا ممکن ہو اور نہ وہ گوشت ایسا ہے کہ اس کی وجہ سے سو دقت اٹھا کر اس کے اتارنے کی کوشش ہی کی جائے اور اس کو اختیار کیا ہی جائے ۔ دوسری بولی (کہ میں اپنے خاوند کی بات کہوں تو کیا کہوں ؟ اس کے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتی) مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر اس کے عیوب شروع کروں تو پھر خاتمہ کا ذکر نہیں اگر کہوں تو ظاہری اور باطنی عیوب سب ہی کہوں ۔ تیسری بولی کہ میرا خاوند لم ڈھینگ ہے یعنی بہت زیادہ لمبے قد کا آدمی ہے، اگر میں کبھی کسی بات پر بول پڑوں تو فوراً طلاق، اور چپ رہوں تو اَدھر لٹکی رہوں ۔ چوتھی نے کہا کہ میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح معتدل مزاج ہے، نہ گرم ہے، نہ ٹھنڈا نہ اس سے کسی کا خوف ہے نہ ملال۔ پانچویں نے کہا کہ میرا خاوند جب گھر میں آتا ہے تو چیتا بن جاتا ہے اور جب باہر جاتا ہے تو شیر بن جاتا ہے اور جو کچھ گھر میں ہوتا ہے اس کی تحقیقات نہیں کرتا۔ چھٹی بولی کہ میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب نمٹا دیتا ہے اور جب پیتا ہے تو سب چڑھا جاتا ہے جب لیٹتا ہے تو اکیلا ہی کپڑے میں لپٹ جاتا ہے میری طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھاتا جس سے میری پراگندگی معلوم ہو سکے۔ ساتویں کہنے لگی کہ میرا خاوند صحبت سے عاجز نامرد اور اتنا بے وقوف کہ بات بھی نہیں کرسکتا، دنیا میں کوئی بیماری کسی میں ہو گی وہ اس میں موجود ہے۔ اخلاق ایسے کہ میرا سر پھوڑ دے یا بدن زخمی کر دے یا دونوں ہی کر گزرے۔ آٹھویں نے کہا کہ میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں زعفران کی طرح مہکتا ہوا ہے۔ نویں نے کہا کہ میرا خاوند رفیع الشان بڑا مہمان نواز اونچے مکان والا بڑی راکھ والا ہے دراز قد والا ہے اس کا مکان مجلس اور دارالمشورہ کے قریب ہے۔ دسویں نے کہا کہ میرا خاوند مالک ہے مالک کا کیا حال بیان کروں وہ ان سب سے جو اب تک کسی نے تعریف کی ہے یا ان سب تعریفوں سے جو میں بیان کروں گی، بہت ہی زیادہ قابل تعریف ہے۔ اس کے اونٹ بکثرت ہیں جو اکثر مکان کے قریب بٹھائے جاتے ہیں ۔ چراگاہ میں چرنے کے لئے کم جاتے ہیں وہ اونٹ جب باجہ کی آواز سنتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ اب ہلاکت کا وقت آگیا۔ گیارہویں عورت ام زرعہ نے کہا میرا خاوند ابوزرع تھا۔ ابو زرع کی کیا تعریف کروں ؟ زیوروں سے میرے کان جھکا دئیے، (اور کھلا کھلا کر چربی سی میرے بازو پر کر دیئے مجھے ایسا خوش و خرم رکھتا تھا کہ میں خود پسندی اور عجب میں اپنے آپ کو بھلی لگنے لگی، مجھے اس نے ایسے ایک غریب گھرانہ سے پایا تھا جو بڑی تنگی کے ساتھ چند بکریوں پر گزارہ کرتے تھے اور وہاں سے ایسے خوشحال خاندان میں لے آیا تھا جن کے یہاں گھوڑے اونٹ کھیتی کے بیل اور کسان تھے، (یعنی ہر قسم کی ثروت موجود تھی ان سب کے علاوہ) اس کی خوش خلقی کہ میری کسی بات پر بھی مجھے برا نہیں کہتا تھا، میں دن چڑھے تک سوتے رہتی تو کوئی جگا نہیں سکتا تھا، کھانے پینے میں ایسی ہی وسعت کہ میں سیر ہو کر چھوڑ دیتی تھی (اور ختم نہ ہوتا تھا) ابو زرع کی ماں (میری خوش دامن) بھلا اس کی کیا تعریف کروں اس کے بڑے بڑے برتن ہمیشہ بھر پور رہتے تھے۔ اس کا مکان نہایت وسیع تھا، (یعنی مالدار بھی تھی اور عورتوں کی عادت کے موافق بخیل بھی نہیں ۔ اس لئے مکان کی وسعت سے مہمانوں کی کثرت مراد لی جاتی ہے) ابو زرع کا بیٹا بھلا اس کا کیا کہنا وہ بھی نور علی نور ایسا پتلا دبلا چھریرے بدن کا کہ اس کے سونے کا حصہ (یعنی پسلی وغیرہ) ستی ہوئی ٹہنی یا ستی ہوئی تلوار کی طرح سے باریک بکری کے بچہ کا ایک دست اس کے پیٹ بھرنے کے لئے کافی (یعنی بہادر کے سونے کے لئے لمبے چوڑے انتظامات کی ضرورت نہ تھی۔ سپاہیانہ زندگی ذرا سی جگہ میں تھوڑا بہت لیٹ لیا، اسی طرح کھانے میں بھی مختصر مگر بہادری کے مناسب گوشت کے دو چار ٹکڑے اس کی غذا تھی)۔ ابو زرع کی بیٹی بھلا اس کی کیا بات ماں کی تابعدار، باپ کی فرمانبردار، موٹی تازی سوکن کی جلن تھی (یعنی سوکن کو اس کے کمالات سے جلن پیدا ہو عرب میں مرد کے لئے چھریرا ہونا اور عورت کے لئے موٹی تازی ہونا ممدوح شمار کیا جاتا) ابوزرع کی باندی کا بھی کیا کمال بتاؤں ، ہمارے گھر کی بات کبھی بھی باہر جا کر نہ کہتی تھی، کھانے تک کی چیز بھی بے جا اجازت خرچ نہ کرتی تھی۔ گھر میں کوڑا کباڑ نہیں ہونے دیتی تھی۔ مکان کو صاف شفاف رکھتی تھی، ہماری یہ حالت تھی کہ لطف سے دن گزر رہے تھے کہ ایک دن صبح کے وقت جب دودھ کے برتن بلوئے جا رہے تھے، ابوزرع گھر سے نکلا۔ راستہ میں ایک عورت پڑی ہوئی ملی جس کی کمر کے نیچے چیتے جیسے دو بچے اناروں سے کھیل رہے تھے، (چیتے کے ساتھ تشبیہ کھیل کود میں ہے اور اناروں سے یا توحقیقةً انار مراد ہیں کہ ان کو لڑھکا کر کھیل رہے تھے، یا دو اناروں سے اس عورت کے پستان مراد ہیں) پس وہ کچھ ایسی پسند آئی کہ مجھے طلاق دے دی اور اس سے نکاح کر لیا، (طلاق اس لئے دی کہ سوکن ہونے کی وجہ سے اس کو رنج نہ ہو اور اس کی وجہ سے مجھے طلاق دینے سے اس کے دل میں ابو زرع کی وقعت ہو جائے) ایک روایت میں ہے کہ اس سے نکاح کر لیا نکاح کے بعد وہ مجھے طلاق دینے پر اصرار کرتی رہی، آخر مجھے طلاق دے دی، اس کے بعد میں نے ایک اور سردار شریف آدمی سے نکاح کر لیا جو شہسوار ہے اور سپہ گر ہے، اس نے مجھے بڑی نعمتیں دیں اور ہر قسم کے جانور اونٹ، گائے، بکری وغیرہ وغیرہ ہر چیز میں سے ایک ایک جوڑا مجھے دیا اور یہ بھی کہا کہ ام زرع خود بھی کھا اور اپنے میکہ میں جو چاہے بھیج دے لیکن بات یہ ہے کہ اگر میں اس کی ساری عطاؤں کو جمع کروں تب ابوزرع کی چھوٹی سے چھوٹی عطا کے برابر نہیں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قصہ سنا کر مجھ سے یہ ارشاد فرمایا کہ میں بھی تیرے لئے ایسا ہی ہوں جیسا کہ ابوزرع ام زرع کے واسطے ۔”

“براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا ، کیا تم سب لوگ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر جنگ حنین میں بھاگ گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ نہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے پشت نہیں پھیری بلکہ فوج میں سے بعض جلد بازوں نے (جن میں اکثر قبیلہ بنوسلیم اور مکہ کے نومسلم نوجوان تھے) قبیلہ ہوازن کے سامنے تیروں کی وجہ سے منہ پھیر لیا تھا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (جن کے ساتھ اکابر صحابہ کا ہونا ظاہر ہے) اپنے خچر پر سوار تھے اور ابو سفیان اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت یہ فرما رہے تھے انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب میں بلا شک وشبہ نبی ہوں اور عبد المطلب کی اولاد (پوتا) ہوں ۔”

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم عمرة القضاء کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو عبداللہ بن رواحہ (اپنی گردن میں تلوار ڈالے ہوئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے) آگے آگے چل رہے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے ۔ خَلُّوا بَنِي الْکُفَّارِ عَنْ سَبِيلِہ الی قولی ۔۔۔عَنْ خَلِيلِہ اے کافر زادو ہٹو۔ آپ کا راستہ چھوڑو ۔ آج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ آنے سے روک دینے پر جیساکہ تم گذشتہ سال کر چکے ہو ہم تم لوگوں کی ایسی خبر لیں گے کہ کھوپڑیوں کو تن سے جدا کر دیں گے اور دوست کو دوست سے بھلا دیں گے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ابن رواحہ کو روکا کہ اللہ کے حرم میں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شعر پڑھتے جا رہے ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عمر روکو مت یہ اشعار اثر کرنے میں تیر برسانے سے زیادہ سخت ہیں۔

جابر بن سمرة رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سو مجلسوں سے زیادہ بیٹھا ہوں جن میں صحابہ اشعار پڑھتے تھے اور جاہلیت کے زمانے کے قصے اور قصائص نقل فرماتے تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (ان کو روکتے نہیں تھے) خاموشی سے سنتے تھے بلکہ کبھی کبھی ان کے ساتھ ہنسنے میں بھی شرکت فرماتے تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے