اسلام میں زانی کی بدترین سزا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ ص وَّلَا تَاْخُذْکُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللَّہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِج وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآءِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ O

(النور ۲)
ترجمہ۔بدکاری کرنے والی عورت اور مرد سو مارو ہر ایک کو دونوں میں سے سو سو درے ، اور نہ آوے تم کو ان پر ترس اللہ کے حکم چلانے میں اگر تم یقین رکھتے ہو اللہ پر اور پچھلے دن (آخرت ) پر۔ اور دیکھیں ان کا مارنا کچھ لوگ مسلمان ۔
فائدہ :۔ یہ سزا اس زانی اور زانیہ کی ہے جو آزاد ،عاقل،بالغ ہو اور نکاح کئے ہوئے نہ ہو یا نکاح کرنے کے بعد ہمبستری نہ کر چکے ہوں جو آزاد نہ ہو اس کے پچاس درے لگتے ہیں۔ لیکن جو مسلمان آزاد بالغ ،عقل مند، نکاح اور ہمبستری کی ہو اس کی سزا سنگسار کرنا ہے۔ اور یہ سزا تنہائی میں نہیں بلکہ مسلمانوں کے مجمع میں دینی چاہئے کیونکہ اس رسوائی میں سزا کی تکمیل و تشہیر اور دیکھنے سننے والوں کے لئے سامان عبرت ہے۔ (از تفسیر عثمانی )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے