( از معارف القرآن )(معارف و مسائل آیات نمبر ۵۔۶۔۷) حرام سے اپنی حفاظت کرو۔

ترجمہ۔یعنی وہ لوگ جو اپنی بیویوں اور شرعی لونڈیوں کے علاوہ سب سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
تفسیر۔ ان دونوں کیساتھ شرعی ضابطہ کے مطابق شہوت نفس پوری کرنیکے علاوہ اور کسی سے کسی ناجائز طریقہ پر شہوت رانی میں مبتلا نہیں ہوتے اس آیت کے ختم پر ارشاد فرمایا۔

فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ،

یعنی شرعی قاعدے کے مطابق اپنی بیوی یا لونڈی سے شہوت نفس کو تسکین دینے و الوں پر کوئی ملامت نہیں۔اس میں اشارہ ہے کہ اس ضرورت کو ضرورت کے درجہ میں رکھنا ہے مقصد زندگی بنا نا نہیں ۔اس کا درجہ اتنا ہی ہے کہ جو ایسا کرے وہ قابل ملامت نہیں ۔
واللہ اعلم

فَمَنِ ابْتَغیٰ وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ،

یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدے کے مطابق قضاء شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں اس میں زنا بھی داخل ہے او رجو عورت شرعاً اس پر حرام ہے اس سے نکاح بھی بحکم زنا ہے اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیرفطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی اور اکثر علما کے نزدیک استمنا ء با الید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کر لینا بھی اس میں داخل ہے۔
( از تفسیر بیان القران۔ قرطبی ۔ وغیرہ)(معار ف القرآن )
مندرجہ بالا آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذرا ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں اور بے راہ روی کے بڑھتے ہوئے طوفان کو دیکھیں تو ہمیں یہ احساس ضرور پید اہو گا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات سے کس قدر روگردانی اختیار کر چکے ہیں اور آخرت سے کس قدر غافل ہو چکے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے