مطلق پانی

مطلق پانی کی چار قسمیں ہیں

۱۔ آسمان سے برسنے والا پانی ۲۔ زمین سے نکلنے والا پانی ۳۔ سمندر اور دریا کا پانی ۴۔ برف سے پگھلنے والا پانی

حکم کے اعتبار سے مطلق پانی کی چھ [6] قسمیں ہیں

۱۔ طاہر مطہر: یہ وہ پانی ہے جو خود پاک ہو اور دوسروں کو پاک کرنے والا ہو ۔ جیسے نہر اور نلکے کا پانی

۲۔ طاہر مطہر مکروہ: یہ وہ پانی ہے جو خود پاک ہو دوسروں کو پاک کرنے والا ہو لیکن اس سے طہارت حاصل کرنا مکروہ ہو جیسے بلی کا جھوٹا

حکم: اس پانی کے علاوہ اگر طاہر مطہر پانی موجود ہو تو اس سے طہارت حاصل کرنا مکروہ ہے اگر یہی پانی ہو تو اس سے بھی طہارت حاصل کرنا مکروہ نہیں

۳۔ طاہر غیر مطہر: یہ وہ پانی ہے جو خود تو پاک ہو لیکن دوسروں کو پاک نہ کرے جیسے مستعمل پانی

۴۔ مستعمل پانی: جب پانی طہارت حاصل کرنے کی نیت سے یا ثواب کی نیت سے استعمال کیا جائے تو استعمال شدہ پانی مستعمل پانی کہلا ئے گا ورنہ نہیں لہذا اگر کوئی محض وضو سکھانے کے لیے کسی کو وضو کر کے دکھائے تو استعمال شدہ پانی مستعمل نہیں بنے گا

حکم: اس پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز نہیں

۵ طاہر مشکوک: یہ وہ پانی ہے جو خود پاک ہو لیکن اس بات میں شک ہو کہ نہ معلوم یہ پاک کرتا ہے یا نہیں جیسے گدھے خچر کا جوٹھا

حکم: اس کے علاوہ کوئی اور پانی موجود نہ ہو تو اس سے وضو کر لیں اور تیمم بھی کر لیں اس کے علاوہ کوئی اور پانی موجود ہو تو اس سے طہارت حاصل کرنا مکروہ ہے

۶۔ نجس: یہ وہ پانی ہے جس میں کوئی ناپاک چیز شامل ہو جائے جیسے پانی میں شراب گر جائے

حکم: اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے طہارت جائز نہیں