میت کو غسل دینے کا مسنون طریقہ

سامان غسل

۱۔ غسل کا تختہ
۲۔ قینچی
۳۔ بڑی چادر ۲ عدد
۴۔ صابن
۵۔ تولیہ ۲ عدد
۶۔ مشک کافور
۷۔ دستانے یا شاپر ۲ عدد
۹۔ پانی ڈالنے کیلے ڈبے ۲ عدد
۱۰۔ بیری کے پتر
۱۱۔ روئی
۱۲۔ ٹشو پیپر ڈھیلے
۱۳۔ کفن
۱۴۔ چارپائی

میت کو سنت کے مطابق غسل دینے میں جو مراحل پیش آتے ہیں انہیں بالترتیب تحریر کیا جاتا ہے

پہلا مرحلہ: میت کو جس تختہ پر غسل دیا جاے اس کو تین دفعہ یا پانچ یا سات دفعہ لوبان کی دھونی دینی چاہیے پھر میت کو اس پر اس طرح لٹاءیں کہ قبلہ اس کی دایں طرف ہو

دوسرا مرحلہ: میت کے بدن کے کپڑے چاک کر لیں اور ایک بڑا کپڑا جسم کے اوپر ڈال کر اندر ہی اندر کپڑے اتار لیں یہ کپڑا موٹا ہونا چاہیے کہ گیلا ہونے کے بعد اندر کا بدن نظر نہ آے

تیسرا مرحلہ: عورت کا سارا جسم ستر ہے بلاوجہ دیکھنا اور ہاتھ لگانا جائز نہیں مت کو استنجا کرانے اور غسل دینے میں اس جگہ کیلے دستانے پہننا چاہیں یا کپڑا ہاتھ پر لپیٹ لینا چاہیے کیونکہ جس جگہ زندگی میں ہاتھ لگانا جائز نہیں وہاں مرنے کے بعد بھی دستانوں کے بغیرہاتھ لگانا جائز نہیں اور نگاہ ڈالنا نا جائز ہے غسل شروع کرنے سے پہلے باہیں ہاتھ میں دستانہ پہن کر مٹی کے تین یا پانچ ڈھیلوں یا ٹشو پیپرز سے استنجا کرایں اور پھر پانی سے پاک کریں

چوتھا مرحلہ: پھر میت کو وضو کرایں وضو میں گٹوں تک ہاتھ دھلایں نہ کلی کرایں اور نہ ناک میں پانی ڈالیں بلکہ روئی کا پھایا تر کر کے ہونٹوں دانتوں اور مسوڑھوں پر پھیر کر پھینک دیں اسی طرح یہ عمل تین دفعہ کریں پھر اسی طرح ناک کے دونوں سوراخوں کو روئی کے پھاے سے صاف کریں

وضاحت: یاد رہے کہ اگر انتقال ایسی حالت میں ہوا ہو کہ میت پر غسل فرض ہو [مثلا کسی شخص کا جنابت یا کسی عورت کا حیض و نفاس کی حالت میں انتقال ہو جاے] تو بھی منہ اور ناک میں پانی ڈالنا درست نہیں ہے البتہ دانتوں اور ناک میں تر کپڑا پھیر دیا جاے تو بہتر ہے مگر ضروری نہیں ہے پھر ناک منہ اور کانوں میں روئی رکھ دیں تاکہ وضواور غسل کے دوران پانی اندر نہ جاے پھر منہ دھلایں پھر سر کا مسح کرایں پھر تین دفعہ دونوں پیر دھلایں

پانچواں مرحلہ: جب وضو مکمل ہو جاے تو سر کو گل خیرو، خطمی بیسن یا صابن وغیرہ سے مل کر دھویں

چھٹا مرحلہ: پھر اسے بایں کروٹ لٹایں اور بیری کے پتوں میں پکایا ہوا نیم گرم پانی بایں کروٹ پر تین دفعہ سر سے پاوں تک اتنا ڈالیں کہ نیچے دایں کروٹ تک پہنچ جاے

ساتواں مرحلہ: پھر اسے دایں کروٹ لٹایں اور بیری کے پتوں میں پکایا ہوا نیم گرم پانی دایں کروٹ پر تین دفعہ سر سے پاوں تک اتنا ڈالیں کہ نیچے بایں کروٹ تک پہنچ جاے

آٹھواں مرحلہ: اس کے بعد میت کو اپنے بدن کی ٹیک لگا کر ذرا بٹھلانے کے قریب کر دیں اور اس کے پیٹ کے اوپر نیچے کی طرف آہستہ آہستہ ملیں اور دبایں اگر کچھ پیشاب یا پاخانہ وغیرہ خارج ہو تو صرف اسی کو پونچھ کر دھو دیں وضو اور غسل دہرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس ناپاکی کے نکلنے سے میت کے وضو اور غسل میں کوئی نقصان نہیں آتا

نواں مرحلہ: پھر اسے بایں کروٹ پر لٹا کر دایں کروٹ پر کافور ملا پانی سر سے پیر تک تین دفعہ خوب بہا دیں کہ نیچے بایں کروٹ بھی خوب تر ہو جاے پھر دوسرا دستانہ پہن کر سارا بدن کسی کپڑے سے خشک کر کے دوسرا کپڑا لپیٹ دیں

دسواں مرحلہ: پھر چارپائی پر کفن کے کپڑے بچھایں اور میت کو آرام سے غسل کے تختے سے اٹھا کر کفن کے اوپر لٹا دیں اور ناک کان منہ سے روئی نکال دیں