فرائض و واجبات

اعمال کی دو قسمیں ہیں

۱۔ اعمال ظاہری ۲۔ اعمال باطنی

اعمال ظاہری:

اعمال ظاہری کی بھی دو قسمہں ہیں

ایک وہ اعمال جن کا کرنا فرض ہے اور ان کے کرنے سے ہی اللہ تعالی خوش ہوتے ہیں اور ایسے اعمال کو اوامر ،فرائض اور واجبات کہتے ہیں

فرائض کی مثال: جیسے پانچ وقت کی نمازیں اوررمضان کے روزے، زکوۃ اور حج۔

واجبات کی مثالیں جیسے وتر اور عیدین کی نماز، کفارہ اور نذر کے روزے اور صدقات واجبہ

دوسرا وہ اعمال جن سے بچنا فرض اور کرنا حرام ہے اور ان کے نہ کرنے سے ہی اللہ تعالی خوش ہوتے ہیں اور ایسے اعمال کو نواہی اور منہیات کہتے ہیں جیسے کسی کو ناحق قتل کرنا، چوری کرنا، زنا کرنا، غیبت کرنا، بہتان لگانا، کسی کا مال ناحق کھانا، شراب پینا، ٹی وی دیکھنا، گانے سننا، تصویر دیکھنا، کھینچوانا، اور رکھنا، ایک مٹھی سے کم داڑھی کٹانا یا منڈانا شلوار ٹخنوں سے نیچے کرنا اور بد نظری کرنا وغیرہ

۲۔ اعمال باطنی: اعمال باطنی کی دو قسمیں ہیں

۱۔ اخلاق حمیدہ ۲۔ اکلاق رذیلہ

اکلاق حمیدہ : وہ اعلی اور عمدہ صفات ہیں جن کو طاہری اعمال صالح کی طرح حاصل کرنا ضروری ہے اور ان صفات کے حاصل ہونے سے ہی انسان کا باطن صیحح معنوں میں نور ایمانی سے منور اور روشن ہوتا ہے۔ اور اس کا اثر انسان کے ظاہر پر محسوس ہوتا ہے یہ وہ صفات ہیں صبر و شکر ، عفو و حلم، سخاوت و شجاعت اور حیا وغیرہ

اکلاق رزیلہ: وہ گندی اور غلیظ صفات ہیں جن سے ظاہری گناہوں کی طرح بچنا ضروری ہے قرآن کریم میں اللہ تعالی ارشاد ررماتے ہیں “وذرواظاہر الاثم و باطنہ”

ترجمعہ: ظاہری اور باطنی گناہوں کو چھوڑ دو،

ان گندی صفات سے انسان کا باطن بھی ناپاک اور گندا ہو جاتا ہے جس کا اثر انسان کے ظاہر پر محسوس ہوتا ہے۔ وہ گندی صفات یہ ہیں۔ حسد و کینہ، بخل و بزدلی، کبر و عجب اور غصہ وغیرہ