روزہ کے مسائل

روزہ کی نیت کے ساتھ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جنسی تعلق سے رکنے کا نام روزہ ہے

فرض روزہ: ہر عاقل بالغ مسلمان پر رمضان المبارک کے روزے فرض ہیں

واجب روزہ: نذر مانے ہوئے روزے ادا کفارے کے روزے واجب ہیں نفل روزہ شروع کرنے کے بعد اس کی تکمیل واجب ہے

مسنون روزہ: یوم عاشورہ [۱۰ محرم] کا روزہ ایک مزید [۹] یا [۱۱] کا ملا کر رکھنا سنت ہے

مستحب روزہ: ہر ماہ تین دن بالخصوص ۱۳،۱۴،۱۵ کا روزہ رکھنا۔ شوال میں [۶] روزے ہفتہ وار پیر جمعرات کا روزہ رکھنا [۹] ذوالحجہ روزہ رکھنا مستحب ہے یکم شوال اور ۱۱،۱۲،۱۳ ذوالحجہ کو روزہ رکھنا حرام ہے

مسئلہ: روزے کے دوران بھول کر کھا پی لینے یا ہم بستری کر لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا

روزہ ٹوٹ جانے کی صورت میں اکثر صورتوں میں صرف قضاء ہوتی ہے بعض صورتوں میں [جبکہ روزہ توڑنے کا جرم انتہا ئی کامل ہو] قضاء کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوتاہے

کفارہ میں مرحلہ وار تین شقیں ہیں

۱۔ غلام آزاد کرنا لیکن اب غلاموں کا دور نہیں
۲۔ غلام آزاد نہ کر سکنے کی صورت میں مسلسل دو ماہ یعنی ساٹھ روزے رکھنا [اگر قمری مہینے کی پہلی تاریخ سے شروع کیے تو چاند کے مطابق یعنی انتیس کا کوئی مہینہ ہو گیا تو روزے ۵۹ لازم ہوں گے
۳۔ اگر دیندار مستند طبیب کی رائے سے یا اپنے سابق تجربہ سے واقعتا مسلسل دو ماہ روزے نہ رکھ سکتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اکی مسکین کو ساٹھ دن بھی کھلا سکتے ہیں اور تسلسل ضروری نہیں ایک مسکین کے صبح شام کھانے کی جگہ صدقہ فطر کی مقدار پونے دو سیر گندم یا اس کا آٹا بھی دے سکتے ہیں اتنی ہی مالیت کی رقم یا اتنی ہی رقم کی دیگر اشیا کپڑے جوتے وغیرہ بھی خرید کر دے سکتے ہیں

کفارے کے روزوں میں تسلسل ضروری ہے لیکن عورت کفارے کے روزے رکھ رہی ہے اور درمیان میں حیض حائل ہو جائے تو اس سے تسلسل ٹوٹنے میں کوئی حرج نہیں البتہ نفاس حائل ہونے یا ایام ممنوعہ ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳ ذوالحجہ حائل ہونے پر دوبارہ سرے سے روزے رکھنا ہوں گے